Untied Nation Appreciate Pakistan

نئی عالمی گروپ بندی!،،،،،، تحریر:،،،،، رابعا فیصل

انقلاب روس اور موجودہ مشرق وسطیٰ کے حالات میں کم از کم ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ 1917ءکے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں نے لاکھوں روسی باشندوں کی جان لے لی تھی۔ مشرق وسطیٰ کی خانہ جنگی اپنی تمام تر ہولناکی کے باوجود ہلاکتوں کی تعداد میں اس کے عشر عشیر بھی نہیں۔ اس کے علاوہ شخصیات کی مثال تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔ انقلاب روس میں دانش سے لے کر عسکریت اور آمریت تک ہر چیز اپنی مثال آپ تھی۔آج کل کسی بھی بغاوت، شورش، خانہ جنگی اور انقلاب کا معروضی اور غیر جذباتی اندازہ میں تجزیہ کیا جاتا ہے۔ پیرس میں ہونے والی ایک نمائش میں 1917ءکے روسی انقلاب کا جائزہ لیتے ہوئے اس کا موجودہ مشرق وسطیٰ سے موازنہ کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں پیرس نمائش اس تاریخ ساز واقعہ کا بہت عمدہ اظہار تھی۔ اس میں تصاویر، پوسٹر اور مسودات کی مدد سے ان وقت رونما ہونے والے واقعات، اُن کے عوامل اور نتائج کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اسے مجموعی طور پر ایک اچھی کاوش قرار دیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک انقلاب روس کی مشرق وسطیٰ سے مماثلت ظاہر کرنے کی کوشش کا تعلق ہے تو میں فرض کر لیتا ہوں کہ مصر کے حسنی مبارک شہنشاہ زار تھے۔ اس کے بعد گیارہ ماہ پر محیط محمد مرسی کی حکومت روس میں Mensheviks کے عارضی دور کی یادد لاتی ہے۔ اس کے بعد دور آتا ہے کامریڈ جوزف سٹالن کا۔ اب مصر میں ہمارے سامنے ہیں فیلڈ مارشل صدر عبدالفتح السیسی، لیکن وہ نہ تو سٹالن دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی لینن۔ اس وقت مصری فوج سینائی میں جو جنگ لڑ رہی ہے، اس کا انقلاب روس سے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مماثلت کرنا ضروری ہے تو پھر ہمیں قدرے ماضی میں جانا پڑے گا۔ مصر کے شاہ فاروق کے عہد کا خاتمہ، پھر جنرل نقیب کا عارضی دور، اور اس کے بعد جمال عبدالناصر کی حکومت بہتر مماثلت ہیں۔ لیکن اگر مصر سے آگے پڑھیں تو شام میں انقلاب روس کی مماثلت تلاش کرنا بہت مشکل ہو گا۔ شام کی خانہ جنگی ظاہر کرتی ہے کہ تبدیلی کی کوشش کس طرح خانہ جنگی میں بدل سکتی ہے اور اسی طرح انقلاب بھی۔ انقلاب کے دوران روس میں لاکھوں افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ شامی خانہ جنگی کچھ مزید پریشان کن پہلو رکھتی ہے جن کا انقلاب روس سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ شامیوں کو پتا ہی نہیں چلا کہ کس طرح اور کتنی تیزی سے اُن پر خانہ جنگی مسلط کر دی گئی۔ روسیوں کو بھی انقلاب کے شواہد پہلے سے دکھائی نہیں دئیے تھے۔ شام میں غیر ملکی مداخلت موجود ہے جیسا کہ روس اور ایران دمشق کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی طرح حذب اللہ بھی میدان میں موجود ہے۔ مشرق وسطیٰ کی کچھ اہم ریاستیں انتہا پسندوں کی پشت پناہی کرتی رہی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نے معتدل مزاج باغیوں کی پشت پناہی کی تھی۔ انہوں نے شام میں اپنے فوجی دستے بھیجے لیکن اس بات کو یقینی بنایا کہ اُن کا جانی نقصان کم سے کم ہو۔ اس سے پہلے وہ افغانستان میں تلخ تجربے سے گزر چکے تھے۔ وہ مشرق وسطیٰ کو ایک اور افغانستان نہیں بنانا چاہتے تھے۔ تاہم شام میں پیش آنے والے واقعات اس تلخ حقیقت کا اظہار ہیں کہ جب غیر ملکی طاقتیں دور بیٹھ کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہیں تو پھر کیا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے برطانیہ نے روس کے سفید فام باشندوں کی مدد کرنے کے لیے اپنے دستے مرمانسک میں اتارے تھے لیکن پریشانی یہ ہوئی اُن سفید فاموں نے اپنے بہت سے دارالحکومت قائم کرلیے۔ اسی طرح داع نے رقہ کو اپنا دارالحکومت بنا لیا۔ اس سے پہلے یہ انتہا پسند گروہ عراق میں موصل کو اپنا دارالحکومت قرار دے چکا تھا۔ یہ مماثلت درست نہیں کیونکہ بالشک میں انقلاب کا ہدف سرمایہ داری کے علاوہ مذہب بھی تھا۔ چنانچہ انقلاب روس کو دہت گردی کے خلاف جنگ سے تشبیہہ نہیں دی جاسکتی۔ انقلاب روس کے دوران وحشیانہ قتل و غارت اور آبروریزی ہوئی تھی۔ داعش کی کارکردگی اُس کے مقابلے میں بہت پست رہی۔ یہاں ایک طرف روسی اور دوسری جانب آمرینین، جارجین اور آذری زبان میں چھپے بینک نوٹ بھی موجود ہیں۔ آذریاس دور میں عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اور نوٹوں پر بھی وہ اسی صورت میں موجود ہے۔ اس سے زیادہ دلچسپ چیز تاتاری زبان میں کلھا گیا ایک پوسٹر ہے جس میں ایک گھڑ سوار چاند اور ستارے پر مشتمل سرخ جھنڈا اُٹھائے، جنگجوﺅں کی قیادت کر رہا ہے۔ مسلمان سپاہیوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تمہارے دشمن تہماری آزادی کو دبا رہے ہیں اور اپنی سرزمین کی حفاظت کرنے والوں میں صرف تم ہی ہو۔۔۔صرف سوویت یونین کی طاقت ہی تمہارے پہاڑ واپس دلا سکتی ہے۔ ریڈ سٹار کے جھنڈے تلے مسلم رجمنٹ بھی شامل ہو جاﺅ۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ تاتاری مسلمان ریڈ سٹار کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہوں گے لیکن مشرقی اناطولیہ کے ایک مسلمان گاﺅں میں فوجیوں کی تصاویر تھیں جو روسی انقلاب کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے اور ایک ریڈ کراس نرس کی اونٹ پر بیٹھے ہوئے شاندار تصویر موجود تھی۔ آج کے دور میں روس مسلم جنگجوﺅں (دہشت گردوں)کو شام میں ہلاک کرنے میں مصروف ہے، کوئی شک نہیں کہ اس میں سے کچھ اس تاتاری گھڑ سوار کی نسل سے ہوں جو 98 سال پہلے سرخ جھنڈا اُٹھائے ہوئے تھا۔ (بشکریہ: دی انڈی پینڈنٹ، ترجمہ: ابوالابصار)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں