Usman Buzdar notes on 61 F

ڈی پی او تبادلہ ازخود نوٹس، وزیراعلیٰ پنجاب کو 62 ون ایف کے تحت نوٹس جاری

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) پاکپتن کے تبادلے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے سرزنش کرنے پر آئی جی پنجاب کلیم امام نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ کو 62 ون ایف کے تحت نوٹس جاری کر دیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیوں نہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو طلب کر کے پوچھا جائے۔ دائیں بائیں اور درمیان سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ عمران کے سابق شوہر خاور مانیکا اور ان کی بیٹی مبشرہ مانیکا بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

سماعت شروع ہوئی تو آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ تمام طلب کردہ افراد عدالت میں موجود ہیں اور تمام افراد کے بیانات حلفی بھی پیش کر دیے گئے ہیں۔

اس موقع پر آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو وزیر اعلیٰ کے دفتر نہ جانے کا کہا تھا جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے اسفتسار کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ ہم 24 گھنٹے کام کرتے ہیں اس لیے رات 1 بجے تبادلہ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں