پاکستان کے بارے میں امریکی صدر کے منفی بیان پر پاکستان کا سخت ردعمل

وزارت خارجہ کے حکام نے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا ہے کہ پاکستان کے بارے میں امریکی صدر کے منفی بیان پرامریکا کو بتادیا کہ یہ زبان ناقابل قبول ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خارجہ نے تحریری جواب ایوان میں پیش کیا۔تحریری جواب میں بتایا گیا ہےکہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر صورتحال ابتر ہو رہی ہے، رواں سال بھارتی فوج نے400 سے زائدمرتبہ سیزفائر کی خلاف ورزیاں کی ہیں، رواں سال بھارتی فائرنگ سے 18 پاکستانی شہری شہید ہوچکے ہیں جب کہ گزشتہ سال بھارتی فائرنگ سے 54 پاکستانی شہید اور 174 زخمی ہوئے۔وزارت خارجہ کے حکام نے بتایا کہ بھارت نے حضرت نظام الدین اولیاء کےعرس کے لیے پاکستانیوں کو ویزے دینے سے انکار کردیا، اس سال 192 افراد نے عرس میں جانے کے لیے درخواستیں دی تھیں،
وائٹ میٹ پسند کرنے والوں کیلئے اچھی خبرآ گئی
ویزوں سے انکار 1974ء کے پروٹوکول کی خلاف ورزی کی ہے، پاکستان نے اس فیصلے پر بھارت سے احتجاج کیا ہے۔وزارت خارجہ کے تحریری جواب میں کہا گیا ہےکہ امریکی صدر نے یکم جنوری کو پاکستان کےبارے میں منفی بیان دیا، امریکی عہدیداروں کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کےبیان کا معاملہ اٹھایا گیا، امریکا کو بتایا گیا کہ یہ زبان ناقابل قبول ہے، امریکا کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کتنی قربانیاں دی ہیں۔وزیر تجارت پرویز ملک نے امریکا کے ساتھ دوطرفہ تجارت کی 5 سالہ تفصیلات بھی تحریری جواب کی صورت میں ایوان میں پیش کیں۔

وزیر تجارت نے بتایا کہ 5سال میں امریکا کے ساتھ 27 ارب 35 کروڑ ڈالر کی تجارت ہوئی، امریکا سے برآمدات کا حجم 17 ارب 88 کروڑ رہا، پانچ سال میں امریکی درآمدات کاحجم 9 ارب 45 کروڑ رہا، امریکا برآمدگی اشیاء میں ٹیکسٹائل،کھیلوں کاسامان، چٹائیاں،کیمیائی مواد اور دیگر سامان شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں