تحریک انصاف کے ٹکٹس کی کہانی رضی طاہر

تحریک انصاف کی ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ گزرگیااور اپنے ساتھ کئی سوالات چھوڑ گیا، ہر حلقے کی اپنی ایک داستان ہے، میں اپنے ضلع اٹک کی بات کروں تو دونوں حلقوں سے ایک ہی شخصیت کو ٹکٹ دے کر میرٹ کا قتل کیا گیا جبکہ اسی حلقے سے تحریک انصاف کے دیرینہ رہنما ملک سہیل کمڑیال کا تعلق ہے ، جو اب تحریک انصاف سے دور ہوگئے۔ ملک سہیل نے 2011سے آج تک تحریک انصاف کی باگ دوڑ سنبھالی، عمران خان کا پہلا جلسہ اٹک کی سرزمین میں کروایا، مگر ان سے بازی بعد میں آنے والے لے گئے، حیرت کی بات ہے کہ کپتان نے انتخاب میجر طاہر صادق کا کیا جو خود کو ان سے بڑا لیڈر سمجھتے ہیں، جن کی ترجیحات صرف اپنی برادری تک محدود ہیں، بطور ضلع ناظم ان کے کئی کارنامے ہیں مگر اس کے باوجود اٹک کی دونوں قومی نشستوں پر انکو ٹکٹ دینا ایک غلط فیصلہ ہے جس کا نتیجہ 25جولائی کو تحریک انصاف بھگتے گی۔ کے پی سے علی محمد خان اور شہریار آفریدی کو ٹکٹ نہ دینا بھی سراسر ناانصافی ہے جس کیلئے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے کارکنان آواز اٹھارہے ہیں۔ یوں تو ہر حلقے کی علیحدہ داستان ہے مگر یہاں میں بالخصوص تذکرہ این اے 121کا کرنا چاہوں گا جہاں سے مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں اور مجھے شیخوپورہ سے میرے کئی دوستوں نے رابطہ کیا اور ٹکٹوں کی تقسیم پر ضلع میں ہونیوالی غیرمنصفانہ تقسیم اور تحریک انصاف میں واضح پھوٹ کے احوال سنائے۔ این اے121پر ٹکٹ چوہدری سعید ورک کو دیا گیا، ذرا ان کا ماضی ملاحظہ فرمائیں آپ حیران رہ جائیں گے، موصوف کا ماضی مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن سے وابستہ رہا، 2002میں منظرعام پر آئے اور ق لیگ میں شمولیت اختیار کی اور جیت گئے، اس دوران حلقے کی عوام ان کے کاموں کو ترستے ہی رہے۔ اس کے بعد اپنی کارکردگی کی وجہ سے موصوف کوئی الیکشن جیت نہ سکے اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی،2013میں تحریک انصاف کا ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے سرعام پارٹی پرچم جلا کر آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور اپنی پارٹی سے بغاوت کی، الیکشن ہارنے کے باوجود ان کا تعلق ظاہری طور پر تحریک انصاف سے ہی رہا مگر بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے کھل کر مسلم لیگ ن کی حمایت کی ۔ اب جب الیکشن 2018کا موسم قریب آیا تو موصوف کو حلقے کی عوام کے بقول علیم خان صاحب سے ذاتی تعلق کی وجہ سے ٹکٹ مل گیا۔ اب ذرا ان کے مدمقابل امیدوار کا موازنہ کرتے ہیں، جنہوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ کیلئے اپلائی کیا تھا۔ شیراکبر خان نے2015میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی، اس سے قبل انہوں نے2013میںآزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور42000ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ بلدیاتی انتخابات میں جہاں سعید ورک بھی تحریک انصاف کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے تھے وہاں شیر اکبر خان نے اپنی تمام تر توانائیاں پارٹی کیلئے صرف کرتے ہوئے 16یونین کونسلز میں تحریک انصاف کو کامیابی دلائی ، جبکہ اپنے آبائی حلقے سے3000کی برتری سے فتح دلوائی۔ بلدیاتی انتخابات میں متحرک کردار ادا کرنے پر وہاں کے کارکنان شیراکبر خان سے منسلک ہوگئے اور انہیں آئندہ کیلئے اپنا نمائندہ تصور کرنے لگے، مگر جب ٹکٹوں کی تقسیم کا وقت آیا تو پارٹی سے زیادہ شا ہ سے وفاداری کام آئی ۔ حلقے کی عوام کا کہنا ہے کہ چوہدری سعید ورک نے علیم خان سے ملی بھگت کرکے ٹکٹ حاصل کی جبکہ ٹکٹ کے اصل حقدار شیر اکبر خان ہیں، تحریک انصاف کو چاہیے کہ فوری طور پر شکایات سیل بنایا جائے اور48گھنٹے کے اندر تمام شکایات سن کر متنازعہ شخصیات کی جانچ پڑتال کی جائے اور جعلی اور نووارد افراد سے ٹکٹ لے کر اصل حقداروں کو دئیے جائیں ۔ کہیں یہ نہ ہو کہ اگست2018سے پھر دھاندلی تحریک شروع کرنی پڑ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں