سندھ ہائی کورٹ میں 1995 سے ترقیاں نہ دینے کے خلاف کیس کی سماعت

سندھ ہائی کورٹ میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس کو 1995 سے ترقیاں نہ دینے اور نئی بھرتیاں کرنے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی .

عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری داخلہ ، آئی جی سندھ ، چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا

عدالت میں درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کے 1995 اور 1996 میں بھرتی ھونے والے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز پولیس کو 22 سے 23 سالوں میں صرف ایک ترقی ملی ھے جس سے وہ سب انسپکٹر بنے ہیں وکیل درخواست گزاروں سید عبدالخالق شاہ و دیگر کا عدالت میں موقف
یونس خان نے کوچنگ میں مستقبل بنانے کاارادہ کر لیا
حکومت پولیس رول اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی خلاف ورزی کرکے 1995 سے بھرتی ھونے والے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو ترقیاتی دینے کی بجائے محکمہ پولیس میں ڈائریکٹ 370 انسپکٹر ، لا انسپکٹر ، انویسٹیگیشن انسپکٹر و دیگر پوسٹوں بھرتیاں کی جا رہی ہیں جس سے موجود اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور سب انسپکٹر کے حقوق مارے جارہیں ہیں وکیل درخواست گزار

محکمہ پولیس میں نئی بھرتیاں پولیس رولز 1934 کے تحت کی جائیں
حیران ہوں کہ وہ قابل ججز کہاں گئے ، جن کے فیصلے موتیوں سے لکھے جاتے تھے۔چیف جسٹس آف پاکستان
پولیس رولز کے مطابق دس فصید کوٹہ پر ڈائریکٹ بھرتیاں کرسکتے ہیں جس کے مطابق قل 37 انسپیکٹر ڈائریکٹ بھرتی کئے جاسکتے ہیں درخواست گزار

جب تک موجودہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور سب انسپکٹرز کو ترقیاتی نہ دی جائیں تب تک محکمہ پولیس میں بھرتیاں نہ کی جائیں وکیل درخواست گزار

عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیل کا موقف سننے کے بعد چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری داخلہ ، چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن ، آئی جی سندھ ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ و دیگر فریقین نوٹس جاری کرتے ہوئے 26 اپریل کو جواب طلب کرلیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں