Polio-Campaign-in-Pakistan

پولیو کاعالمی دن:مشکلات کےباجود بلوچستان کی خواتین ورکرز مرض کےخاتمے کیلئےپُرعزم

پولیو ایک ایسا موذی مرض ہے جو اگر خدانخواستہ لاحق ہوجائے تو وہ متاثرہ بچے کے لیے جسمانی معذوری کی شکل میں ساری زندگی کا روگ بن جاتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان اب بھی دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے، جو پولیو کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ہیں، خصوصاً صوبہ بلوچستان میں تو رواں عشرے کے اوائل میں پولیو کےکیسز کی تعداد کافی تشویش ناک رہی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس میں بہتری آئی ہے۔

2011 میں بلوچستان سے پولیو کے 73 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 2014 میں 25 کیسز رپورٹ ہوئے۔ بعد ازاں 3 برس کے عرصہ میں 10 اور رواں برس اب تک پولیو کے 3 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کی صورتحال اگرچہ بہتر ہے تاہم ان کاعزم ہے کہ اس وائرس کا صوبے سے مکمل خاتمہ کیا جائے۔

اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسداد پولیو بلوچستان راشد رزاق نے بتایا کہ صوبے سے پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ہدف یہی ہے کہ صوبے کو پولیو سے پاک کیا جائے، لیکن یہ محکمہ صحت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز اور شعبہ ہائے زندگی کےافراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسداد پولیو کی کاوشوں میں بھرپور ساتھ دیں۔

انہوں نے پولیو کی روک تھام کےحوالے سے یونیسیف اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون کو بھی سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں