PMLn Leadership muted

ن لیگ رہنماوں کے گرد توہین عدالت کیس میں گھیرہ تنگ

لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ۔میاں نواز شریف اور 14 سیاسی شخصیات کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواستوں پر سماعت ہوئی .

فل بنچ کےروبرو وکلا کے دلائل جاری تھے کہ عدالت کا وقفہ ہونے پر سماعت 45 منت کے لیے ملتوی کر دی گئی ۔

سہیل اصف سیکرٹری پیمرا عدالتی حکم پر پیش ہو گئے .

مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی۔ مسٹر جسٹس مسعود جہانگیر اور مسٹر جسٹس عاطر محمود پر مشتمل فل بنچ نے توہین عدالت کی 27 متفرق درخواستوں پر سماعت کی۔

فل بنچ کے روبرو میاں نواز شریف کی طرف سے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ اور مریم نواز کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔

وکلا شریف خاندان نے کہاکہ توہین عدالت کی درخواستین ناقابل سماعت قرار دیے کر مسترد کر دی جائیں ۔ ۔میاں نواز شریف کے وکیل جسٹس عاطر محمود کی بنچ شمولیت پر اعتراض کر دیا ۔

مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کو ایسے دلائل دینے سے روک دیا ۔سینر وکلا پہلے دلائل دیں ۔اپ کے اعتراضات نوٹ کر لیے ہیں ۔
مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ پہلے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کر لیں ۔اگر اپ ججوں پر بے بنیاد الزامات لگائیں گے تو بہتر ہے اپ بین الاقوامی عدالت سےرجوع کر لیں ۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سماعت سے قبل الزامات سابق وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا ۔عدالتوں کا تقدس برقرار رکھیں ۔

مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔انصاف کرنے بیٹھے ہیں ۔اس پر پورا اتریں گے ۔۔
سندھ اور پنجاب پولیس حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے عوام کو لوٹنے لگ گئیں
کمرہ عدالت میں ججون اور لیگی وکلا کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ خیال بھی ہوا

یہ فل بنچ چوتھی بار تشکیل دیا گیا ہے
۔
دیگر جن شیخصات کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے ان میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ۔احسن اقبال ۔اسحاق ڈار اور خواجہ سعد رفیق شامل ہیں ۔درخواست میں خواجہ آصف ۔مریم اورنگ زیب ۔طلال چوہدری اور نہال ہاشمی کے نام بھی شامل ہیں .رانا ثنا اللہ ۔مائزہ حمید ۔آصف کرمانی عابد شیر علی ۔محسن رانجھا۔پرویز رشید کے نام بھی شامل ہیں .

درخواستگزار نے موقف پیش کی کہ پانامہ لیکس کیس میں سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا ۔نا اہل ہونے کے بعد یہ حکومتی شخصیات عدلیہ پر جس طرح تنقید کر رہی ہیں اور تضحیک آمیز بیانات دے رہے ہیں ۔ چیرمین سینٹ اور سپیکر قومی اور صوبائی اسمبلی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔چیرمین پیمرا اسکی درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہے ۔چیرمین پیمرا اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔
ریلوے کی اراضی پر قبضہ , عدالت مے قبضہ مافیا کے گرد گھیرہ تنگ کر دیا
درخواستگزار نے استدعا کی کہ عدالت اس کا نوٹس لے۔ تمام شخصیات کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لانے کا حکم دے ۔تمام شخصیات کے خلاف فوجداری کاروائی عمل میں لانے کا حکم دے ۔

کمرہ عدالت مین ن لیگ کے سرکاری وکلاء اور لیگی وکلا موجود رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں