پاکستان میں غیر شادی شدہ خواتین اور کرائے کے مکان

پاکستان میں غیر شادی شدہ خواتین اور ایک اکیلی خاتون کے لیے کرائے پر مکان حاصل کرنا کتنا مشکل ہے اِس کا اندازہ صرف ان ہی خواتین کو ہو سکتا ہے جنھوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہو۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کے تجربات، خیالات اور آراء اِس سماجی مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ یہ مسئلہ لوگوں کے اردگرد موجود ہے لیکن عموماً اس وقت تک آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے جب تک کوئی غیرشادی شدہ یا اکیلی عورت اِس پر بات نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیے
’مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دور مذہبی مساوات کا نمونہ‘

تیز ترین سپر کمپیوٹر: امریکہ پہلے، چین تیسرے نمبر پر

چنیوٹ: جنازہ پڑھنے پر مولوی نے نکاح فسخ قرار دے دیا، دیہاتی پریشان

سوشل میڈیا پر یہ موضوع اس وقت زیربحث آیا جب طوبیٰ اختر نامی ایک خاتون نے اپنی ٹویٹ میں اپنا ایک تجربہ شیئر کیا۔

’ اسلام آباد میں پچھلے ڈیڑھ برس کے دوران تیسری مرتبہ آج میں نے مکان کی تلاش شروع کی ہے۔ میں یہاں کام کی وجہ سے آئی ہوں۔ مندرجہ ذیل وہ چند باتیں ہیں جو میں نے بلڈنگ مینیجروں اور لینڈ لارڈز / لینڈ لیڈیز سے سنی ہیں۔‘

اس کے بعد انھوں نے اپنا تجربہ یوں بیان کیا۔

اپارٹمنٹ بلڈنگ کا ایک مرد مینیجر:

دیکھیں اگر میں ایمانداری سے بات کروں تو ہم یہ غیر شادی شدہ خواتین کو نہیں دیتے۔

میں اور میری ہاؤس میٹ: او کے، کیوں؟

بلڈنگ مینیجر: اگر ہم ایک اپارٹمنٹ دیں گے تو ساری بلڈنگ خراب ہو گی۔

ہم: کیسے، خراب سے آپ کا کیا مطلب ہے۔

بلڈنگ مینیجر: غیر شادی شدہ لوگ، آپ جانتی ہیں۔

@ToobaAkhtar کی ٹوئٹر پر 2 پوسٹ کا خاتمہ

Tooba Akhtar
@ToobaAkhtar
Replying to @ToobaAkhtar
Male building manager of an apartment complex:

Look if I’m honest we don’t give this to single women.

Me and housemate: “ ok, why?”

BM: “well you know even if we let one apt go,the whole building goes kharaab”

Us: “how,what do you mean kharaab?”

BM: “single people,u know”

33
9:45 PM – 12 نومبر، 2018
Twitter Ads info and privacy
See Tooba Akhtar’s other Tweets
Twitter Ads info and privacy
@ToobaAkhtar کی ٹوئٹر پر 2 پوسٹ سے آگے جائیں
اِس کے بعد انھوں نے مزید لکھا ’ایک اور مالکِ مکان خاتون نے جو اپنی بہن کے ساتھ رہتی ہیں مجھ سے 527292 سوالات کیے۔ پھر انھوں نے کہا کہ دراصل وہ اپنا مکان کسی ایسی فیملی کو دینا چاہتی ہیں جو مردوں کے ساتھ ہو۔

طوبیٰ اختر کے اِن تجربات پر نہ صرف خواتین بلکہ مردوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

گیلانی نے لکھا کہ وہ بھی کراچی میں ایسے ہی تجربے سے گزر رہے ہیں اور ایسے برتاؤ کی بے شمار مثالیں ہیں۔

@mehdizaman89 کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

Gillani
@mehdizaman89
Replying to @ToobaAkhtar
Single people cannot get an apartment for rent in a “family” building. I am going through the same ordeal in Karachi. There are countless example of such behaviour

2:38 PM – 13 نومبر، 2018
Twitter Ads info and privacy
See Gillani’s other Tweets
Twitter Ads info and privacy
@mehdizaman89 کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں
فرح نے لکھا: ’آپ یہ یاد رکھیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں رہتی ہیں جہاں ایک عورت اپنے والد یا شوہر کی اتھارٹی کے بغیر شناختی کارڈ بھی حاصل نہیں کر سکتی۔ پاکستان میں عورت کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے وہ یا تو ماں ہے یا بہن یا بیٹی۔‘

غیر شادی شدہ اور اکیلی خواتین کو کرائے پر مکان حاصل کرنے میں مشکلات پاکستانی معاشرے کے کئی رحجانات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک طرف تو ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کا ایک بڑا حصہ اِس بات کو نہیں سمجھتا کہ عورت کی اپنی ایک علیحدہ شخصیت بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب یہ مسئلہ عورتوں کے بارے میں کئی مخصوص تعصبات اور گھسے پٹے خیالات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

@ToobaAkhtar کی ٹوئٹر پر 3 پوسٹ کا خاتمہ

Tooba Akhtar
@ToobaAkhtar
Replying to @ToobaAkhtar
This city, this country is suffocating. I’m consistently made to feel that being single is something I should be ashamed of or defend or somehow reduces everything else about me to a despicable single factor.

Wherever I’ve lived my every move is monitored and commented on.

97
9:45 PM – 12 نومبر، 2018
Twitter Ads info and privacy
28 people are talking about this
Twitter Ads info and privacy
@ToobaAkhtar کی ٹوئٹر پر 3 پوسٹ سے آگے جائیں
طوبیٰ کی جنھجلاہٹ شاید اسی جانب ایک اشارہ ہے۔ ’اس شہر، اس ملک میں میرا دم گھٹتا ہے۔ مجھے بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ غیر شادی شدہ ہونا باعثِ شرمندگی ہے۔ یہ میرے بارے میں ہر چیز کو ایک حقارت بھرے نکتے تک محدود کر دیتا ہے۔‘

جب کوئی مالک مکان کسی غیر شادی شدہ عورت یا عورتوں کو اپنا مکان دینے سے منع کرتا ہے تو اِس کی وجہ وہ خیالات ہیں جو معاشرے میں عورتوں کے بارے میں کافی مضبوطی اور گہرائی سے موجود ہیں۔ اِن خیالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تک عورت کی شادی نہ ہو جائے وہ محفوظ نہیں ہے اور یہ معاشرہ اِسے تحفظ فراہم کرنے کی خود ساختہ ذمہ داری اٹھا لیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں