pakistan-cricket-board

پاکستان میں کرکٹ کی پاورفل کمیٹی کیا کرے گی؟

واشنگٹن : جب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے پاورفل کرکٹ کمیٹی تشکیل دی ہے، ملک میں کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آخر یہ کمیٹی کیا کام کرے گی؟چار رکنی کمیٹی سابق کرکٹر محسن حسن خان کی قیادت میں کام کرے گی جبکہ سابق کپتان اور آل راونڈر وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق اور سابق خاتون کرکٹر عروج ممتاز شامل ہیں۔

اس کمیٹی کی بنیادی ذمہ داریاں کیا ہوں گی؟ کیا اس کی ذمہ داریوں اور ٹیم مینیجمنٹ کی ذمہ داریوں میں ٹکراو تو نہیں آئے گا؟ کرکٹ کمیٹی اس سے پہلے آج تک کیوں نہں بنائی گئی؟ وائس آف امریکہ نے یہ سوالات کرکٹ کمیٹی کے سربراہ محسن حسن خان کے سامنے رکھے ہیں اور جاننے کی کوشش کی ہے اس کمیٹی کا مینڈیٹ کیا ہو گا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن حسن خان نے، جو پاکستان کی قومی ٹیم کے سابق کوچ اور چیف سیلیلکٹر رہ چکے ہیں، بتایا کہ کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ احسان مانی قومی اور بین الاقوامی کرکٹ مینیجمنٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ وہ نہ صرف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سربراہ رہے ہیں بلکہ وہ انگینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں کرکٹ ماڈل کو بھی بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان کی سوچ کے مطابق یہ کرکٹ کمیٹی ملک کے اندر کرکٹ کے فروغ سے لے کر قومی ٹیم کی پرفرمارمنس تک ان کو مشورے دیتی رہے گی۔

تو کیا آسٹریلیا کی طرز پر علاقائی کرکٹ پروان چڑھانہ مقصود ہے؟ اس سوال کے جواب میں محسن حسن خان نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ سابق کپتان اور موجودہ وزیراعظم عمران خان آسٹریلیا کی طرز پر ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کی تائید کرتے آئے ہیں جہاں بین الاقوامی کھلاڑیوں اور ڈومیسٹک کھلاڑیوں میں کیلیبر (اھلیت ) کا نہیں صرف کپپ کا فرق ہوتا ہے۔ تاہم محسن خان کے بقول بینکوں اور دیگر اداروں کی حوصلہ شکنی نہیں کی جائے گی۔ ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے گا۔ ان کے ساتھ جلد ایک میٹنگ ہو گی۔ مگر یہ درست ہے کہ جب شہروں اور ریجن کی سطح پر مقابلے ہوتے ہیں تو کرکٹ کو نیا جوش و خروش اور ٹیلنٹ ملتا ہے۔ پاکستان پریمئر لیگ اس کی ایک مثال ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں