Operation Against Quack Column By ali ahmed

”عطائیت “ کا خاتمہ

علی احمد ڈھلوں 

لاہور سے اسلام آباد براستہ موٹروے سفر کریں تو راستے میں سرگودھا ڈویژن کے ایک وسیع علاقے سے گزر ہوتا ہے۔ اسی راستے سے چند ماہ قبل سرگودھا شہر جانے کا اتفاق ہوا تو ہمارے ایک دوست جو وہیں کے رہائشی بھی ہیں نے اسرار کیا کہ کوٹ مومن انٹرچینج سے ہم موٹر وے سے نیچے اتریں گے اور وہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک خوبصورت گاﺅں”کوٹ عمرانہ“ جائیں گے وہاں کچھ دیر قیام کے بعد شہر جائیں گے۔ ہم نے پوچھا کہ اس گاﺅں میں موصوف کو کیا کام ہے؟

اُس نے بتایا کہ ایک دوست چوہدری اکرم نمبردار ہیں، اُن سے ملنا ہے۔ ہم نے بھی سوچا کہ چلو ہماری آوارہ گردی میں ایک اور علاقے کا اضافہ ہو جائے گا۔لہٰذا کوٹ عمرانہ کی جانب چل دیے، کچے پکے راستوں سے ہوتے ہوئے ہم کوٹ عمرانہ پہنچے تو وہاں چوہدری اکرم نمبردار سے ملاقات ہوئی، دوپہر کا وقت تھا، ہواکی تازگی صحت مند ماحول کو تشخیص کر رہی تھی، ہلکی ہلکی دھند بھی فصلوں کے اوپر پہرا دے رہی تھی، کھلی فضاءمیں پرندے چہچہا رہے تھے، یعنی پورا ایک دیسی قسم کا ماحول روح کو تازہ کر رہا تھا۔

لیکن اس ماحول میں چوہدری اکرم خاصے پریشان دکھائی دیے، بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ اس گاﺅں میں ڈیڑھ سو سے زائد لوگوں کو ایڈز ہے۔ یہ بات نا صرف میرے لیے چونکا دینے والی تھی بلکہ دوست بھی اُن کی بات سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ نمبردار نے بتایا کہ یہ مرض گزشتہ تین چار سالوں سے ہمارے گاﺅں میں موجود تھا ،

گزشتہ سال بھی اس بیماری سے 2سو لوگ لقمہ اجل بنے، پھرہم نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا ، جیسے تیسے کر کے محکمہ صحت کو خیال آہی گیا، یہاں سے خون کے نمونے ڈسٹرکٹ ہسپتال سرگودھا بھیجے گئے جہاں سے ایڈز کی تشخیص ہوئی، پھر پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے کیمپ لگا اور پتہ چلا کہ سو سے زائد لوگوں کو ایڈز ہے۔ یہ بتاتے ہوئے نمبردار کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ لگ رہا تھا کہ جیسے وہ اپنے لوگوں کو اس بیماری کے ہاتھوں مرتے دیکھ کر خود بھی گھٹ گھٹ کر مر رہے تھے۔ پوچھنے پر نمبردار صاحب نے بتایا کہ یہ بیماری ہمارے علاقے میں اپنوں کے ہاتھوں سے ہی پھیلی ہے۔

پہلی دفعہ اس بیماری کے تشخیص ہونے کے بعد مختلف اداروں نے یہاں تحقیق کی اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ ایڈز کے پھیلاﺅ میں دو لوگ قصور وار ہیں ایک وہ عطائی ڈاکٹر جو خود بھی ایڈز سے ڈیڑھ سال پہلے مرگیا تھا اور دوسرا گاﺅں کا نائی جو ”سیپی“ یعنی سالانہ اُجرت پر لوگوں کی حجامت کرتا اور شیو بناتا ہے۔ 

نمبر دار صاحب نے بتایا کہ یہاں آس پاس گاﺅں میں کہیں کوئی پڑھا لکھا ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں بھی ہمارے لوگ اللہ دتہ نامی عطائی ڈاکٹر کے پاس ہی جاتے تھے۔ جو لوگوں کو ایک ہی سرنج سے انجیکشن لگاتاتھا، پھر نیلی پیلی گولیاں دے کر کسی سے پیسے وصول کرتا اور کسی سے سالانہ اُجرت کی شکل میں گندم وغیرہ لے لیتا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ وہ پیشے کے لحاظ سے نائی تھا، اور شاید مڈل پاس تھا، بس وہ خود تو اس بیماری سے مرا ہی ساتھ سینکڑوں گاﺅں والوں کو بھی لے ڈوبا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے گاو ¿ں یا قریبی دیہات میں کوئی ڈسپنسری تک موجود نہیں۔ قریب ترین ایک بنیادی صحت کا مرکز بچہ کلاں میں واقع ہے جو اس گاو ¿ں سے چند کلو میٹر پر واقع ہے۔ ایسے میں چھوٹی موٹی تکالیف کی صورت میں لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اس ”نائی ڈاکٹر“کے پاس ہی چلے جائیں۔ پھر ہمیں نمبردار نے چند گھروں کی نشاندہی بھی کرائی جن کے پیارے اس مرض سے مر گئے تھے۔اور پھر وہاں سے نمبردار ہمیں ایک گھنٹے سے زائد کی مسافت طے کرکے ڈسٹرکٹ ہسپتال سرگودھا لے گئے جہاں ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے چند لوگوں دکھائے جن کی عمریں 30سے 35تھیں۔ جنہیں ابتداءمیں کہا گیا تھا کہ یا تو انہیں ٹی بی ہے یا ہیپاٹائٹس ! 

یہ حال سرگودھا کے نواحی علاقوں کا ہی نہیں بلکہ ہمارے ملک میں موجود 10ہزار سے زائد چھوٹے بڑے گاﺅں اور قصبوں کا ہے جہاں علم کی روشنی سے کوسوں دور عوام جہالت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان علاقوں میں لوگوں کے ان پڑھ ہونے کا فائدہ اُٹھا کر کچھ لوگ جو سا ل دو سال کسی کوالیفائڈ ڈاکٹر یا حکیم کے پاس کا م کرتے ہیں اور پھر اپنا کلینک کھول لیتے ہیں۔ یا کسی ہو میومیڈیکل کالج میں داخلہ لے لیتے ہیں اور دو چار ماہ کے بعد کالج والے ان لوگوں کو پریکٹس کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن وہ ہومیو کے ساتھ ساتھ ایلوپیتھک کی دوا بھی فروخت کرتے ہیں۔ سرکاری میڈیکل آفیسر ان پر چھاپے مارتے ہیں پکڑے جاتے ہیں۔ کچھ لے دے کر معاملہ ٹھپ ہو جاتا ہے۔ جس نے کلینک کھولا، اس نے بند نہیں کیا ، چل رہا اور چلتا رہے گا۔ 

اب جبکہ آج کل صوبہ پنجاب میں چیف جسٹس کے حکم پر ان اتائیوں کے خلاف زبردست مہم جاری ہے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی اتائیوں کے خلاف جاری مہم اور رپورٹوں کو دیکھ کر فوری حکم جاری کیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر پورے ملک میں اتائیوں کو گرفتار کرلیا جائے اور انہیں رپورٹ دی جائے۔ خیر ایک ہفتے میں تمام اتائیوں کو گرفتار کرنا ممکن نہیں البتہ کچھ عرصہ میں سارے اتائی گرفتار کئے جاسکتے ہیں۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں چار لاکھ عطائی ہیں اور دو لاکھ ڈاکٹرز ہیں۔ ملک کی گلی گلی میں عطائی موجود ہیں جو برسہابرس سے اپنے اڈے چلا رہے ہیں۔ آئے دن اخبارات میں خبریں آتی رہتی ہیں کہ عطائیوں کے ہاتھوں کئی لوگ موت کے منہ میں چلے گئے، کئی زندگی کی بازی ہار گئے۔صرف پنجاب میں 80ہزار عطائی مریضوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ اس حوالے سے فیصل آباد پہلے نمبر پر ہے جہاں 22ہزار 500 عطائیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ لاہور دوسرے نمبر پر ہے جہاں 14ہزار 500 عطائی ہیں اور ساہیوال تیسرے نمبر پر ہے جہاں 14ہزار عطائی پریکٹس کر رہے ہیں۔ جوہیپا ٹائٹس بی، سی اور ایڈز اور کئی دیگر خطرناک بیماریاں ایک مریض سے دوسرے مریض کو منتقل کر رہے ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ بیماریاں پھیلانے کا باعث عطائی اور خصوصاً عطائی ڈینٹل سرجن بن رہے ہیں۔ یہ ڈینٹل ٹیکنیشین مریضوں کا علاج تو کیا کریں گے، انہیں بیمار ضرور کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ٹی وی رپورٹ میں سڑک پر بیٹھے ہوئے ایک عطائی ڈینٹل سرجن سے علاج کروانے والے شخص سے بات کی گئی تو اس نے بتایا کہ دانتوں کا علاج اتنا مہنگا ہے اور سڑک پر بیٹھا ہوا یہ عطائی ڈینٹل سرجن سو ڈیڑھ سو روپے میں میرا علاج کر دیتا ہے۔ پنجاب ڈینٹل اسپتال کے حالات انتہائی برے ہیں۔ وہاں کوئی پرسان حال نہیں۔ 

لیکن معذرت کے ساتھ معزز چیف جسٹس چاہ کر بھی یہ ”گند“ صاف نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم یہ سوچ ہی نہیں رہے کہ عطائیت کیوں فروغ پا رہی ہے؟ہم یہ بھی نہیں سوچ رہے کہ ہم کیا خوراک استعمال کر رہے ہیں؟ ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہماری اوسط عمر 50سال سے بھی نیچے کیوں آرہی ہے؟ ہم یہ بھی نہیں سوچ رہے کہ 30سے 35سال کی عمر کے لوگوں کو ہارٹ اٹیک کیوں ہو رہے؟ ہم یہ بھی نہیں سوچ رہے کہ اس ملک بھر میں70لاکھ گردے کے مریض کیسے بن گئے؟ ہم یہ بھی سوچنے کی استطاعت نہیں رکھتے کہ جاپان، سوئٹزرلینڈ، سنگاپور، آسٹریلیا، سپین،اٹلی، فرانس جیسے ملکوں میں اوسط عمریں 85سے 95سال تک کیوں ہیں؟ کیا ان باتوں پر کبھی کسی نے غور کیا؟ 

کیا کسی سیاسی رہنماو مذہبی نے اس حوالے سے بھوک ہڑتال کی کہ لوگوں کو صحت کی سہولیات ملنی چاہییں؟ کیا کسی سیاسی و مذہبی جماعت نے ان عطائیوں کے خلاف آواز بلند کی؟ کیا پاکستان کے ہر ضلع، کونسل اور قصبے یا دیہات میں کونسلر وغیرہ جیسا کوئی نمائندہ موجود نہیں جو لوگوں کی صحت کا تحفظ یقینی بنا سکے؟ اور کیا عمران خان، شہباز شریف، زرداری و دیگر سیاستدانوں کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں میں صحت کے حوالے سے چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں قائم کرلیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے یہاں تو سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو وہ توجہ نہیں ملتی جو ملنی چاہیے، گھنٹوں خوار ہونے کے بعد بھی ان کے معمولی ٹیسٹ نہیں ہوتے، غریب لوگ اپنی دیہاڑی بھی توڑتے ہیں، دفتروں میں کام کاج چھوڑ کر آتے ہیں پھر بھی علاج نہیں ہوتا۔ سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کا رویہ بھی کچھ اتنا اچھا نہیں۔ دوسرے فیملی فزیشنز ہر جگہ میسر نہیں چنانچہ لوگ عطائیوں سے علاج کروانے پر مجبور ہیں۔

عطائیت کو ختم کرنے کا ایک حل اور بھی ہے۔ حکومت تمام ریٹائرڈ پروفیسرز اور ڈاکٹرز کی فہرست بنائے اور جو ڈاکٹر میڈیکل کالجوں میں بنیادی سائنس کے مضامین پڑھاتے ہیں یہ ڈاکٹرز سو فیصدی اس قابل ہیں کہ وہ فیملی فزیشنز کے لیول کا علاج کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے ایم بی بی ایس کے بعد بھی مختلف ڈگریاں حاصل کی ہوتی ہیں۔ انہیں سرکاری سطح پر ہائیر کرے اور ایسی سہولیات دیں کہ وہ خود دور دراز علاقوں میں خدمات دینے کے لیے آمادہ ہوں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ چھاپے فرضی ہیں، دھول بیٹھنے پر یہ لوگ دوبارہ وہی دھندہ شروع کردیں گے۔ پھر یہی محکمہ صحت کا عملہ ہوگا، جو انہی لوگوں سے منتھلی وصول کرے گا، اور چھاپوں کی پیشگی اطلاع بھی دے گا۔

لہٰذاجب تک ہم اپنا سسٹم ٹھیک نہیں کریں گے ان عطائیوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اور سسٹم اسی صورت ٹھیک ہو سکتا ہے جب ہمارے حکمران اپنی عوام کے لیے سنجیدہ ہوں! خیر ان کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ لاہور سمیت پورے پنجاب میں 10سالوں میں کوئی بڑا ہسپتال نہیں بنایا گیا، حالانکہ اس دوران یہاں کی آبادی دوگنی ہو چکی ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں