خام تیل کی قیمت دو سال کی بلند ترین سطح پر

نیوزویوز:(لاہور) سعودی عرب اور روس کی جانب سے خام تیل کی پیداوار میں کمی کی حمایت کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کی ‘ oil price ‘ قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔یہ گذشتہ دو برس کے دوران خام تیل کی بلند ترین قیمت ہے۔جمعے کو لندن ایکسچینج میں تیل کی فی بیرل قیمت میں ایک ڈالر 14 سینٹس کا اضافہ ہوا۔دوسری جانب ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 میں تیل کی اوسطاً قیمت 56 ڈالر فی بیرل تک رہنے کا امکان ہے جو گذشتہ سال 53 ڈالر فی بیرل تھی۔بین الااقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے کیونکہ پاکستان کا انحصار درآمدی خام تیل پر ہے۔مالی سال 2017 میں پاکستان نے تقریباً سات ارب 70 کروڑ ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں جو کہ پاکستان کی کل درآمدات کا تقریباً 15 فیصد تھا۔ملک میں لوڈشیڈنگ اور بجلی کی پیداوار کا عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں سے گہرا تعلق ہے۔تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے پاکستان میں تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔دوسری جانب ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 میں تیل کی اوسطاً قیمت 56 ڈالر فی بیرل تک رہنے کا امکان ہے جو گذشتہ سال 53 ڈالر فی بیرل تھی۔عالمی بینک کے مطابق تیل کی قیمتیں بڑھنے سے اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی اور امریکی شیل آئل کی مستحکم ہونے سے تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔ورلڈ بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ سنہ 2018 میں اجناس کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں