nangi haqiat

ننگی حقیقت “”نبیل احمد ورک

تحریر:
نبیل احمد ورک
کہاں ہے ارض و سمائ کا خالق
کہ چاہتوں کی رگیں کریدے
حوس کی سرخی رخ بشرکا
حسین غازہ بنی ہوئی ہے
کوئی مسیحا ادھر بھی دیکھے
کوئی تو چارہ گری کو اترے
افق کا چہرہ لہو سے تر ہے
زمیں جنازہ بنی ہوئی ہے

قصور شہر کے بیچ و بیچ سات سالہ ایک معصوم بچی اغوائ ہوتی ہے، پانچ دن لاپتہ رہتی ہے، ایف آئی آر کٹتی ہے اس کے باوجود اس معصوم کا کوئی سراغ نہیں۔ خیر، یہ تو ہوگیا سرکاری کام یا محض ایک “تکلف” کیونکہ یہاں پرچہ اس واسطے نہیں کٹتا کہ اس پر کارروائی کی جائے بلکہ ہر ظلم کے بعد یہ محض ایک رسم ہے جو ادا ہونی ہوتی ہے اور اس سے کارروائی کا کوئی تعلق نہیں۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثنائ اللہ کے بیانات کے بعد حکومت کی بے حسی اور قانون کی بے کسی کا اندازہ ہوگیا اور اب گڑھے مردے اکھیڑنے سے کچھ ہاتھ آنے والا نہیں۔
میرا گلہ، میرا گریہ، میری تعزیت تو اس ننگے معاشرے کیلئے ہے جو منافقت کے برقعے میں لپٹا ہوا ہے، جس کی آنکھ پر حوس کی پٹی لپٹی ہوئی ہے، یہاں عورت بنت حوا نہیں ابن آدم کی درندگی کو تسکین پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اور جی ہاں وہ درندے آپ بھی ہیں اور میں بھی۔ ارے یار! سات سالہ زینب اذیت میں چیخی ہوگی، چلائی ہوگی لیکن کیا اس درندے کو ذرا فرق نہیں پڑا ہوگا؟ کیا معصوم زینب پر اس کو رتی برابر ترس نہیں آیا ہوگا؟ ابن آدم کی جنسی تسکین نہ ہوئی نہ جانے کیا ہوگیا کہ اس بھیڑئیے کو ذرا خیال نہیں آیا۔
آج میں خود کو زینب کا بے بس بھائی محسوس کر رہا ہوں کہ جس کا بس نہیں چل رہا کہ سارے کہ سارے قصور کو آگ لگا ڈالوں کہ کہیں تو وہ چھپا ہوا بے شرم بھی جل کر مر جائے اور پھر جب دیکھتا ہوں کہ یہ ممکن نہیں تو جی کرتا ہے کہ متعلقہ تھانے کے سامنے خود کو جلا ڈالوں کہ جس کے اہلکار پانچ دن تک آتے رہے، آ کر چائے پیتے رہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لواحقین نے مہیا کی۔او بھئی! بندہ ایک مرتبہ اس مسخ شدہ کلی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لاتا ہے پھر اپنے معصوم بچوں کو سوچتا ہے تو غیرت کی دیوی خودبخود مہربان ہوجاتی ہے۔ مٰن جانتا ہوں کہ جلد ہی وہ جانور گرفتار بھی ہوگا اور اس کو کیفرکردار تک بھی پہنچا دیں گے لیکن اب دیر ہوچکی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر وہ بھیڑیا کسی جاگیردار، زمیندار یا کسی سیاسی شخصیت کا پالتو ہوا تو جلد صلح بھی ہوجائے اور وہ دوبارہ سڑکوں پر دندناتا پھرے اور اگلا شکار ڈھونڈتا پھرے۔ یہ پاکستان ہے اور یہا ں سب ممکن ہے۔ اگر پکڑ کر اس کو کٹہرے میں لے جایا گیا اور سزا دے کر حاتم طائی کی قبر پر مار بھی دی تو اس سے ایسے واقعات نہیں رکیں گے۔
خدا کا واسطہ ہے، شرم کر لو، حیا کر لو، غیرت کے انجکشن لگواؤ اور ایسی مثال قائم کرو کہ آئندہ ایسا سوچنے والے کی روح بھی کانپ جائے، اس کو شاہ رخ جتوئی کی طرح پیسے کا مان نہ ہو کہ وہ بچ جائے گا۔ میری خواہش ہے کہ میں کم از کم اس شخص کو تو غیرت کے نام پر قتل ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں