Nab's action evolutionary or revolutionary ... ??

نیب کی کاروائی ارتقائی یا انقلابی ۔۔۔؟؟

”تسلسل کیساتھ ایک ہی طرز کےلیے جاری رہنے والی کاوش،عمل،تبدیلی ارتقاء کے زمرے میں آتی ہے جبکہ کم وقت یا یک لخت رونما ہونے
والی تبدیلی کو انقلاب سے تشبہیہ دی جاتی ہے “جس ملک کی عوام جانور سے بدتر ہو اور سیاسی مداری اربوںیا عربوں میں کھیل رہے ہوں۔جس ملک میں خواتین دو وقت کی روٹی کے لیے جسم فروشی پر مجبور ہوں اور سیاسی فنکار دھڑا دھڑ جائیدادوں پر قبضے کررہے ہوں۔۔۔جس ملک میں بچے برائے فروخت کے بورڈ آویزں ہوں اور سیاسی رنگباز اپنے بچوں کوبیرون ملک تعلیم،صحت اور صُحبت کی ترغیب دیتے ہوں،،جس ملک میں
حکم عدولی پر ناجائز مقدمات کو نسلوں تک بھگتنے پڑتے ہوں اور سیاسی شعبدے بازوں کے مقدمات کو جمہوریت پر حملہ مانا جائے ہم اُس بےحس
بے غیرت، بے رحم، بدمست، بداخلاق، بدزبان،بدتہذیب معاشرے کے باسی ہیں!ہم ایسے پاکستان میں بستے ہیں جہاں کرپٹ،بد عہد،بدمعاش اور
جمہور تماشا کرنیوالوں سے جب حساب مانگا جائے تو جمہوریت، حکومت اور ملک کی سلامتی کو خدشات کا”چورن “اندھا دھند بکنے لگتا ہے۔۔۔لیکن یہ سیاسی شعبدے باز”ریاست ہوتی ہے ماں کہ جیسی “کی ٹرم کو تن من دھن سے استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور اقتدار،اختیار کے نشے میں ملک کی دولت،وسائل کو ” ماں کی جاگیر سجھ کر لوٹتے ہیں“اور اگرپوچھنے کے لیے پکڑا جائے تو بھٹو کے جیالے،بی بی کے بیٹے،ن لیگ کے شیر،چوہدریوں کے وارث،کپتان کے کھلاڑی،بلوچوں اور پختونوں کی محرومی کی صدائیں بلند ہوتے ہی ایک دوسرےکیساتھ طعنہ زنی کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔۔۔ اور الزام تراشی کا پانی بیچاری نیب اور اداروں کے سر پر اُنڈیلنے کی سازشیں شروع ہوجاتی ہیں۔۔لیکن حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔۔جناب ِمن
نیب کی کاروائیاں اچانک شروع نہیں ہوئیں ۔۔۔۔۔پیپلزپارٹی کے دورِ اقتدار کی کرپشن کہانیوں پر نیب نے تحقیقات ن لیگ میں شروع کیں اور ن لیگ کے آخری سالوں میں ایکشن شروع ہوا جس کا سب سے پہلے شکار ڈاکٹر عاصم بنے۔۔۔۔اور یوں پی پی پی اور ن لیگ ایک دوسرے کے
سامنے آگئے۔۔۔یاد رہے جس وقت نیب پیپلزپارٹی کے لوگوں کو گرفتار کررہی تھی اس وقت ن لیگ کے خلاف بھی انکوائریاں شروع کی جا چکی تھیں۔۔لیکن ن لیگ آئندہ حکومت بنانے کے خمار میں متکبرانہ رویہ اپناتے ہوئے ان انکوائریوں کو سنجیدہ نہیں لے رہی تھی۔۔۔پھر ہوا یوں کہ
پی پی کے لوگ ضمانت پر باہر آتے گئے اور ن لیگ کے لوگ گرفتار ہونا شروع ہوگئے۔۔۔اس قسط میں الزامات کی زد میں تحریک انصاف آگئی لیکن تحریک انصاف کے لوگوں کی گرفتاری پر ”نیب حکومت گٹھ جوڑ “ کا واویلا کرنیوالوں نے اسکو سیاسی برابری کا حربہ قرار دے دیا۔۔۔ذرا اندازہ
لگائیے ان سیاسی،جمہوری پہلوانوں کی دور اندیشی کا۔۔بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ کیا نیب نے راتوں رات انکوائریاں کھول کر بندے اُٹھانے شروع کر دئیے؟”نہیں“ کیا ان انکوائریوں سے متعلق پہلے کوئی سوال جواب یا خط و کتابت نہیں ہوئی؟”ہوئی“ کیا یکا یک نیب کو خیال آیا کہ اسپیکر،وزیر،
پارلیمنٹیرینز اورسرکاری عہدوں پر بیٹھنے والے ”ناخداؤں“ کو کرپشن کے الزام میں اُٹھانا ہے؟”نہیں“ کیا اربوں روپے کے اثاثے نہیں بنائے گئے؟
”بنائے “ کیا اب مزیدلوگوںکو نا اُٹھایا جائے اس حوالے سے حکومتی مشنیری کو روکنے کی سازشیں نہیں ہورہیں؟”ہورہی ہیں “یقین کریں یہ سب
حربے، دھونس، دھمکیاں، دشنام طرازی، جمہوریت کو خطرہ اور حکومت کی تبدیلی کا پراپیگنڈہ۔۔..۔سیاسی مداریوں کی ڈرامے بازی ہے تاکہ وہ جو
لوٹ چکے نا تو انکے بارے میں پوچھا جائے اور نا ہی انکی کرپشن سے کسی کو آگاہی ہو۔۔۔تاکہ نسل در نسل ملک میں حکمرانی کرنیوالوں کی اگلی نسل بھی ہم پرمسلط ہوسکے!یاد رہے نیب کی کاروائیاں ایک تسلسل کا شاخسانہ ہے کوئی یکلخت نہیں” نیب نے ارتقائی طرز سے کام کیا انقلابی نہیں “

“جس ملک کی عوام جانور سے بدتر ہو اور سیاسی مداری اربوںیا عربوں میں کھیل رہے ہوں۔جس ملک میں خواتین دو وقت کی روٹی کے لیے جسم فروشی پر مجبور ہوں اور سیاسی فنکار دھڑا دھڑ جائیدادوں پر قبضے کررہے ہوں۔۔۔جس ملک میں بچے برائے فروخت کے بورڈ آویزں ہوں اور سیاسی رنگباز اپنے بچوں کوبیرون ملک تعلیم،صحت اور صُحبت کی ترغیب دیتے ہوں،

،جس ملک میں حکم عدولی پر ناجائز مقدمات کو نسلوں تک بھگتنے پڑتے ہوں اور سیاسی شعبدے بازوں کے مقدمات کو جمہوریت پر حملہ مانا جائے ہم اُس بےحس
بے غیرت، بے رحم، بدمست، بداخلاق، بدزبان،بدتہذیب معاشرے کے باسی ہیں!ہم ایسے پاکستان میں بستے ہیں جہاں کرپٹ،بد عہد،بدمعاش اور
جمہور تماشا کرنیوالوں سے جب حساب مانگا جائے تو جمہوریت، حکومت اور ملک کی سلامتی کو خدشات کا”چورن “اندھا دھند بکنے لگتا ہے۔۔۔لیکن یہ سیاسی شعبدے باز”ریاست ہوتی ہے ماں کہ جیسی “کی ٹرم کو تن من دھن سے استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور اقتدار،اختیار کے نشے میں ملک کی دولت،وسائل کو ” ماں کی جاگیر سجھ کر لوٹتے ہیں“اور اگرپوچھنے کے لیے پکڑا جائے تو بھٹو کے جیالے،بی بی کے بیٹے،ن لیگ کے شیر،چوہدریوں کے وارث،کپتان کے کھلاڑی،بلوچوں اور پختونوں کی محرومی کی صدائیں بلند ہوتے ہی ایک دوسرےکیساتھ طعنہ زنی کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔۔۔ اور الزام تراشی کا پانی بیچاری نیب اور اداروں کے سر پر اُنڈیلنے کی سازشیں شروع ہوجاتی ہیں۔۔لیکن حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔۔جناب ِمن
نیب کی کاروائیاں اچانک شروع نہیں ہوئیں ۔۔۔۔۔پیپلزپارٹی کے دورِ اقتدار کی کرپشن کہانیوں پر نیب نے تحقیقات ن لیگ میں شروع کیں اور ن لیگ کے آخری سالوں میں ایکشن شروع ہوا جس کا سب سے پہلے شکار ڈاکٹر عاصم بنے۔۔۔۔اور یوں پی پی پی اور ن لیگ ایک دوسرے کے
سامنے آگئے۔۔۔یاد رہے جس وقت نیب پیپلزپارٹی کے لوگوں کو گرفتار کررہی تھی اس وقت ن لیگ کے خلاف بھی انکوائریاں شروع کی جا چکی تھیں۔۔لیکن ن لیگ آئندہ حکومت بنانے کے خمار میں متکبرانہ رویہ اپناتے ہوئے ان انکوائریوں کو سنجیدہ نہیں لے رہی تھی۔۔۔پھر ہوا یوں کہ
پی پی کے لوگ ضمانت پر باہر آتے گئے اور ن لیگ کے لوگ گرفتار ہونا شروع ہوگئے۔۔۔اس قسط میں الزامات کی زد میں تحریک انصاف آگئی لیکن تحریک انصاف کے لوگوں کی گرفتاری پر ”نیب حکومت گٹھ جوڑ “ کا واویلا کرنیوالوں نے اسکو سیاسی برابری کا حربہ قرار دے دیا۔۔۔ذرا اندازہ
لگائیے ان سیاسی،جمہوری پہلوانوں کی دور اندیشی کا۔۔بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ کیا نیب نے راتوں رات انکوائریاں کھول کر بندے اُٹھانے شروع کر دئیے؟”نہیں“ کیا ان انکوائریوں سے متعلق پہلے کوئی سوال جواب یا خط و کتابت نہیں ہوئی؟”ہوئی“ کیا یکا یک نیب کو خیال آیا کہ اسپیکر،وزیر،
پارلیمنٹیرینز اورسرکاری عہدوں پر بیٹھنے والے ”ناخداؤں“ کو کرپشن کے الزام میں اُٹھانا ہے؟”نہیں“ کیا اربوں روپے کے اثاثے نہیں بنائے گئے؟

”بنائے “ کیا اب مزیدلوگوںکو نا اُٹھایا جائے اس حوالے سے حکومتی مشنیری کو روکنے کی سازشیں نہیں ہورہیں؟”ہورہی ہیں “یقین کریں یہ سب
حربے، دھونس، دھمکیاں، دشنام طرازی، جمہوریت کو خطرہ اور حکومت کی تبدیلی کا پراپیگنڈہ۔۔..۔سیاسی مداریوں کی ڈرامے بازی ہے تاکہ وہ جو
لوٹ چکے نا تو انکے بارے میں پوچھا جائے اور نا ہی انکی کرپشن سے کسی کو آگاہی ہو۔۔۔تاکہ نسل در نسل ملک میں حکمرانی کرنیوالوں کی اگلی نسل بھی ہم پرمسلط ہوسکے!یاد رہے نیب کی کاروائیاں ایک تسلسل کا شاخسانہ ہے کوئی یکلخت نہیں” نیب نے ارتقائی طرز سے کام کیا انقلابی نہیں “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں