مریم نواز نے اپنے 9 ارب روپے کرپشن الزامات کا سامنا کرنے کی بجائے پاکستان سے بھاگنے کا فیصلہ

کرپشن اور بدیانتی پر نااہل ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور سیاسی جانشین مریم نواز نے اپنے 9 ارب روپے کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے خاوند کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے ہمراہ پاکستان سے بھاگنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور دس سال تک برطانیہ میں رہائش اختیار کرنے بارے ویزا کی درخواست باضابطہ برطانوی سفارتخانہ میں جمع کرادی ہے۔
بلوچستان میں چیک اینڈ بیلنس سے ماورا نظام ؟
جمعرات کے روز مریم نواز اپنے خاوند کیپٹن (ر) صفدر کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت میں قائم برطانوی سفارتخانہ کی طرف سے مقرر کی گئی کورئیر آفس گئیں اور ویزوں کے لئے باضابطہ درخواست دی ۔ کرپشن الزامات کا سامنا کرنیوالے مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نے اپنے پاسپورٹ جمع کراتے ہوئے استدعا کی ہے کہ وہ لندن میں بیمار کلثوم نواز کی تیمارداری کیلئے جانا چاہتے ہین ۔

مریم اور صفدر کی طرف سے جمع کرائے گئے ویزہ درخواست کی دستاویزات آن لائن کے پاس موجود ہیں جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کیپٹن صفدر پاسپورٹ نمبر 047438204 جی ڈبلیو ایف نے دس سال کیلئے ویزہ کی درخواست دی ہے اور ویزہ فیس 3750 روپے بھی ادا کی ہے۔ کیپٹن صفدر نے ویزہ فوری سٹیمپ لگانے کیلئے 29 ہزار 3 سو روپے ا ضافی ادا کئے ہیں تاکہ ویزہ ایک دن کے اندر ہی سٹیمپ ہوجائے۔
پنجاب بھر کے سکولوں کے خواندگی اور حسابی نظام کی عوام تک رسائی آج سے شروع
مریم صفدر پاسپورٹ نمبر جی ڈبلیو ایف 047438496 کورئیر آفس میں جمع کرادیا ہے جلد ویزہ لگوانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ویزہ سٹیمپ کیلئے اضافہ 29383 روپے بھی سفارتخانہ کو ادا کئے گئے ہیں۔ مریم نے اپنا ویزہ لگوانے کامقصد سیاحت قرار دیا ہے اور دس سالوں کیلئے ویزہ کی استدعا برطانوی سفارتخانہ سے کی ہے۔ اس طرح ہنگامی بنیادوں پر ویزہ لگانے کیلئے جھوٹ اور کرپشن الزامات میں ملوث میاں بیوی نے 57 ہزار روپے بھی برطانوی سفارتخانہ کو ادا کئے ہیں۔

مریم نواز احتساب عدالت میں 22 جعلی دستاویزات جمع کرائی تھیں جو فرانزک لیب سے ثابت ہوچکی ہیں جبکہ کیپٹن صفدر کے خلاف نیب نے 9 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں۔ احتساب عدالت اگلے دو ہفتوں میں شریف خاندان کے خلاف فیصلے سنانے والی ہے جبکہ شریف خاندان کی کرپشن میں ملوث ممبران ملک چھوڑ کر بھاگنے لگے ہیں نیب نے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر داخلہ احسن اقبال ان کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں