Last-three Government-of-Pakistan

مشرف، زرداری اور ن لیگ کے ادوار کا تقابلی جائزہ

مہنگائی!

سب سے پہلے تو مشرف، زرداری اور ن لیگ کے ادوار کا تقابلی جائزہ لے لیتے ہیں، مندرجہ ذیل قیمتیں ان تینوں ادوار کے آخری ایام کی ہیںٖ تاکہ اندازہ ہوسکے کہ ہر دور میں کتنی مہنگائی ہوئی:

دودھ:

مشرف دور میں 25 روپے لٹر، زرداری دور میں 70 روپے اور ن لیگی دور میں 115 روپے لٹر، یعنی پچھلے دس برس میں دودھ کی قیمت میں نوے روپے اضافہ ہوا جو کہ 9 روپے سالانہ اضافہ بنتا ہے۔

آٹا:

مشرف دور میں 13 روپے کلو، زرداری دور میں 30 روپے اور ن لیگی دور میں 41 روپے کلو – یعنی پچھلے دس برس میں آٹے کی قیمت میں 28 روپے اضافہ ہوا جو کہ تقریباً تین روپے سالانہ بنتا ہے۔

تندوری روٹی:

مشرف دور میں تین روپے، زرداری دور میں چھ روپے اور ن لیگی دور میں دس روپے کی ہوگئی۔ یعنی پچھلے دس برس میں تندوری روٹی کی قیمت میں تین گنا سے زائد اضافہ ہوا۔

انڈے:

مشرف دور میں 48 روپے درجن، زرداری دور میں 86 روپے درجن اور ن لیگی دور میں 110 روپے درجن ہوگئے – یعنی پچھلے دس برس میں فی درجن انڈوں کی قیمت میں 62 روپے اضافہ ہوا جو کہ سالانہ پانچ روپے سے زائد بنتا ہے۔

باسمتی چاول (فائن کوالٹی):

مشرف دور میں 85 روپے کلو، زرداری دور میں 135 روپے کلو اور ن لیگی دور میں 185 روپے کلو ہوئے – یعنی پچھلے دس برس میں چاولوں کی قیمت میں سو روپے اضافہ ہوا جو کہ سالانہ دس روپے بنتا ہے۔

دال مونگ:

مشرف دور میں پچاس روپے کلو، زرداری دور میں 130 روپے کلو اور ن لیگی دور میں 180 روپے کلو ہو گئی۔ یعنی پچھلے دس برس میں دال مونگ کی قیمت میں 130 روپے اضافہ ہوا جو کہ تیرہ روپے سالانہ بنتا ہے۔

ابھی یہ صرف چند ایک بنیادی ضرورت کے آئٹمز ہیں جو کہ امپورٹ نہیں ہوتے بلکہ مقامی طور پر پروڈیوس کئے جاتے ہیں۔ ابھی ایک اہم فیکٹر سب لوگ نظرانداز کررہے ہیں اور وہ ہے 2012 سے لے کر 2016 تک میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی – اگر یہ کمی نہ ہوتی تو ان قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوسکتا تھا۔

تحریک انصاف کے وزرا واقعی ناتجربہ کار ہیں جو اپنے منہ سے خود ہی کہہ رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی میں اضافہ ہوگا ۔ ۔ ۔ حالانکہ اگر وہ بھی زرداری اور نوازشریف کی طرح منہ بند رکھ کر چپ چاپ ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتیں بڑھاتے جائیں تو انہیں کون پکڑ سکتا تھا؟

یاد رہے، پچھلے دس برس میں جو ملک پر 50 ارب ڈالرز کا قرض چڑھا ہے، اس کی سود ملا کر ماہانہ قسط تقریباً 230 ملین ڈالرز یعنی تیس ارب روپے بنتی ہے ۔ ۔ ۔ ایک ایسا ملک کہ جس کی آمدن کے زرائع ختم ہوتے جارہے ہوں، اسے ہر مہینے تیس ارب روپے قرض کی قسط چکانی ہو، اس ہر مزید ظلم یہ کہ پی آئی اے، سٹیل مل، واپڈا سمیت قومی ادارے بھی ہر مہینے تیس ارب سے زائد کا خسارہ برداشت کرتے جائیں ۔ ۔ ۔

اگر آپ کے سینے میں دل ہوتا تو یا تو یہ سب کچھ جان کر پھٹ جاتا، یا پھر ہاتھ میں ڈنڈا لے کر شریف برادران اور زرداری کے محلات کے باہر پہنچ جاتے اور ان کے سر پر ڈنڈے مار مار کر لوٹی ہوئی رقم کا حساب مانگتے۔

مہنگائی کا رونا مت روئیں، اگر رونا ہے تو یا اس جمہوریت کو روئیں جس نے پچھلے دس برس میں ملک تباہ کردیا، یا پھر اپنی جہالت کو روئیں جو آج بھی نوازشریف اور زرداری کی حمایت کرنے پر مجبور کررہی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں