شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کے آخری چند ایام ۔

(محمد اسد سلیم)

شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کو آج دنیا سے رخصت ہوئے 21 سال کا عرصہ بیت گیا مگر ان کی آواز کا جادو آج بھی سر چرھ کر بولتا ہے۔ پوری دنیا کے لئے نصرت فتح علی خان کی موت بھی ایک معمہ بن گئی تھی ۔ اپنی وفات سے کچھ دن قبل طے شدہ پروگرام کے تحت خان صاحب گردہ تبدیل کے گرز سے امریکہ روانہ ہوئے مگر آرام کے گرز سے کچھ دن لندن میں قیام کرنے کا ارادہ کیا ۔ وہ لندن کے ایک مقامی ہوٹل میں گئے مگر وہاں جا کر ان کی طبیعت خراب ہوگئے ۔
نصرت کی موت آج بھی ایک معمہ
نصرت فتح علی خان کا آج بھی دلوں پر راج ہے

ان کے سیکٹری اقبال بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ طبیعت نہ سمبھلی تو خان صاحب کو فوری مقامی ہوٹل میں داخل کروایا گیا۔ پاکستانی ڈاکٹر ڈاکٹر ہارون کی مدد سے انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے فوری طور پر ڈائلاسس کرنے کا فیصلہ کیا۔مگر جب ڈائلاسس کے باوجود ان کی طبیعت بحال نہ ہوئی تو انہیں مزید ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا گیا۔ جو ٹیسٹ دوسرے روز کروائے گئے تھے جب اگلے دن ان کے رزلٹ آئے تو معلوم ہوا کہ خان صاحب کو تو ہیباٹائیٹس( اے )(بی)اور(سی)ہوگیا ہے اور اس کی وجہ یہ پتا چلی کے ڈائلاسس مشین کی نالیاں تبدیل کئے بغیر ہی ڈائلاسس کئے گئے جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔ڈاکٹروں نے خان صاحب کو لندن سے ہی علاج مکمل کروانے کا مشورہ دیا۔ خان صاحب دیکھنے میں زیادہ بیمار نہیں لگتے تھے ۔ڈاکٹروں نے بھی مکمل تسلی دے رکھی تھی۔یہی وجہ تھی کے خان صاحب کے اہلخانہ میں سے کسی کو وہاں نہیں بلایا گیا تھا البتہ خان صاحب کے چند قریبی دوست جو ان دنوں لندن میں ہی مقیم تھے وہ روزانہ آجایا کرتے تھے ۔ ان دوستوں میں جاوید میاں داد اور میڈم نور جہاں بھی شامل تھی ۔ ملکہ ترنم نور جہاں بھی ان دنوں علاج کے غرض سے لندن میں مقیم تھی وہ ویل چیئر پر خان صاحب سے ملنے آیا کرتی تھی ۔
استاد نصرت فتح علی کی شاگرد ہونا میرے لیے اعزاز ہے : شبنم مجید

ہسپتال میں موجود ڈاکٹر کے مشورہ پر خان صاحب کو یباٹائیٹس کا ایک انجکشن لگایا گیا جس کے مزید خان صاحب کی طبیعت میں مزید بیگار آگیا ۔ جس ڈاکٹر کے مشورہ پر خان صاحب کو یباٹائیٹس کا ایک انجکشن لگایا گیا وہ ڈاکٹر بھی وہاں سے غائب ہوگیا ۔ اگلے دن صبح ۵ سے ۶ بجے کے درمیان خان صاحب کی طبیعت مزید خراب ہوگئی۔انہں ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔مگر ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کرنے کے کچھ ہی دیر بعد خان صاحب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور یو دنیا موسیقی کا ایک عظیم باب بند ہوگیا۔ خان صاحب کی اہلیہ نے ان ڈاکڑوں پر مقدمہ کرنے بھی سوچا مگر بعد میں فیصلہ بدل دیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں