LaHore press Club

لاہور پریس کلب کے پروگرام ” میری باتیں، میری یادیں” میں نسیم احمد نے اپنی یادیں تازہ کیں‘

نیوزویوز:( لاہور پریس کلب کے پروگرام ” میری باتیں، میری یادیں” میں نسیم احمد نے اپنی یادیں تازہ کیں‘
سینئر صحافیوں کی شرکت لاہور پریس کلب LaHore press Club کے سینئر صحافیوں کے ساتھ سلسلہ گفتگو ” میری باتیں،میری یادیں” میں لائف ممبر اور سینئر صحافی جناب نسیم احمد نے شرکت کی اور اپنے صحافتی سفر کی یادیں تازہ کیں۔تقریب میں صدر محمد شہباز میاں، نائب صدر زاہد گوگی، سیکرٹری عبدالمجید ساجد، ممبران گورننگ باڈی شاہنواز رانا، رضوان خالد، نعمان وہاب ، سینئر صحافی علامہ صدیق اظہر، تاثیر مصطفی، اسرار بخاری، جلیل الرحمٰن، امتیاز راشد، احمد فراز، عظیم قریشی، تنویر زیدی، انوار قمر، اسلم چوہدری،انتخاب حنیف شیخ، طارق ممتاز، ملک محمد ظفر، کوثر شمسی، صابر سبحانی، امبرین فاطمہ، احسن ضیائ، ہمایوں نیازی، اعجاز مرزا، جہانگیر حیات، حبیب چوہان، پرویز الطاف سمیت سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔تقریب کی نقابت شاہنواز رانا نے کی جنہوں نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی شخصیت اور صحافتی سفر کا مختصر احاطہ کیا ۔ صدر محمد شہباز میاں نے کہا کہ سینئرز کے ساتھ نشست کی روایت کو آگے بڑھائیں گے تاکہ نئے آنے والے ساتھیوں کو سینئر ز سے سیکھنے کا موقع میسر ہو سکے، انہوں نے کہا کہ آجکل صحافت تجارت بن چکی ہے جس سے صحافت کا معیار کم ہوتا جا رہا ہے، اخبار کی پہچان ایڈیٹوریل کی وجہ سے ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے آجکل ایڈیٹر کے اختیارات محدود کر دیئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ نسیم احمد نفیس انسان اور شعبہ صحافت کا اثاثہ ہیں ۔ سیکرٹری عبدالمجید ساجد نے کہا سینئرز کے ساتھ گفتگو کا یہ سلسلہ باقاعدہ مشن سمجھ کر شروع کیا گیا تھا جس میں ہم کامیاب رہے ہیں ، ان پروگرامز کے زریعہ جونیئرز کی ٹریننگ ہو رہی ہے اور اس سلسلہ کو جاری رکھا جائےگا، انہوں نے مزید کہا کہ نسیم احمد نے محنت اور دیانت سے ساری زندگی صحافت کی ہے ،نسیم احمد جونیئرز کیلئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ تقریب سے نائب صدر زاہد گوگی، علامہ صدیق اظہر، تاثیر مصطفی، امتیاز راشد، جلیل الرحمٰن، ملک محمد ظفر، چوہدری اسلم، عظیم قریشی،انوار قمراور جہانگیر حیات نے بھی گفتگو کی۔ مقررین نے کہا کہ جناب نسیم احمد نے ہمیشہ محنت اور ذمہ داری کیساتھ صحافت کی ، وہ نئے آنے والے صحافیوں کیلئے رول ماڈل ہیں، انہوں نے ہمیشہ مثبت صحافت کی ہے اور صحافتی اخلاقیات سے بخوبی آگاہ ہیں، ڈسپلن کے پابند ہیں، انہوں نے اپنی زندگی کے پچاس سال صحافت کو دیئے ، نئے آنے والے صحافیوں کو انکی پیروی کرنی چاہئے ۔پروگرام کی اختتامی تقریب میں معزز مہمان کو یاد گاری شیلڈ اور پھول پیش کیے گئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں