Ali ahmed column on dam issue

”ہالوکاسٹ“ سے گستاخانہ مواد تک   علی احمد ڈھلوں

آج صدر کا الیکشن بھی ہوگیا اور یقینا عارف علوی مبارکباد کے مستحق ہوں گے،میرا آج کا کالم تو یقینا انہی پر بنتا تھا مگر ہالینڈ میں ہونے والے حالیہ گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ ہونے کے بعد ہم اپنے تئیں ”جشن “منا کر خاموش ہوگئے ہیں اوراس بات کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا مگرہم اس کو ماضی کا حصہ بنا کر بھول بیٹھے ہیں۔ اب ہوگا یہ کہ کچھ دن بعد دوبارہ یہ مسئلہ سر اُٹھائے گا۔ ہمیں سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال دلایا جائے گا اور ہم مشتعل ہو کر ایک بار پھر ”مغرب“ پر چڑھ دوڑیں گے۔مغرب پھر انہیں منسوخ کرے گا اور ہم پھر آرام سے بیٹھ جائیں گے۔ یہ بالکل ایسا عمل ہے جیسے پتلی تماشے میں تماشہ کرنے والا ڈوریاں ہلاتا ہے اور پتلیاں کرتب دکھاتی ہیں۔ حقیقت میں ہم لوگ پتلیاں بن کر رہ گئے ہیں۔ ہماری ڈوریاں کہیں سے ہلائی جاتی ہیں اور ہم فوراََ Reactکرتے ہیں، اُن کا مقصد پورا ہوتا ہے اور ہم پھر اپنی جگہ بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کی مثال اس طرح سے لی جاتی ہے کہ مغرب میں کوئی ایک شخص اپنی ویب سائیٹ کی تشہیر کے لیے متنازعہ ایشو جیسے گستاخانہ خاکوں کا مسئلہ اُٹھاتا ہے یا مقابلے کا انعقاد کرواتا ہے، اور چند ڈالر تشہیر پر لگا کر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتا ہے۔ تو ہم اس ”لنک“ کو کھولتے ہیں، اور ”مذمت“ کر کے آگے پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ چند ہی دنوں میں ہر شخص اُس ویب سائیٹ یا سوشل میڈیا پیج کو لائک یا کمنٹ خواہ وہ گالیوں ہی کی شکل میں کیوں نہ ہوں کر چکا ہوتا ہے۔ 

دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں احتجاج شروع ہو جاتا ہے اور جب خبریں ٹی وی چینلز اور اخبار کی زینت بنتی ہیں تو اسے مزید سنجیدہ ایشو سمجھ کر کئی سمجھدار لوگ بھی اس تشہیری مہم میں کود پڑتے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ یہ مہم جہاں سے چلائی جا رہی ہوتی ہے اُن ممالک میں حق آزادی رائے کا سب کو حق حاصل ہے اس لیے وہاں اُس شخص پر کسی قسم کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا اس لیے اس میں حکومت کے ملوث ہونے کے چانسز بھی کم ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک چیز ہم نے دیکھی ہے کہ پیج کی پروموشن کرنے والے ایسے الفاظ بھی لکھ دیتے ہیں کہ جس سے بندہ ”تشہیر“ میں ملوث ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے، جیسے ایک گستاخانہ تصویر کے اوپر لکھ کر پوسٹ کر دیا جاتا ہے کہ”لعنت بھیج کر شیئر کریں یا آگے بھیجیں“ بندہ پوچھے ہماری لعنتوں سے اُنہیں کیا فرق پڑنے والا ہے۔ ایسے کسی بھی مواد کو روکنے کے لیے یا تو اس پوسٹ کو اپنی وال سے ڈیلیٹ کریں یا Hideکردیں تو میرے خیال میں ہم اس تشہیری مہم کا حصہ بننے سے بچ سکتے ہیں۔ 

اس کالم میں ہالو کاسٹ کا ذکر میں اس لیے کرنا چاہتا ہوں کہ آج کل یہ بھی بحث چھڑ چکی ہے کہ گستاخانہ مواد کے مقابلے میں ہالوکاسٹ کی”افسانوی“حقیقت کو آشکار کرکے یہودیوں سے بدلہ لیا جائے۔ وہ منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرتے ہیں جبکہ ہم محض مفروضوں اور افواہوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اُن کی منصوبہ بندی اور عالمی سطح پر گرپ دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ اس حوالے سے میں ذاتی تجربے سے آگاہ کرتا چلوں کہ گزشتہ روز جب میں نے ہالوکاسٹ کے حوالے ”گوگل“ سے معلومات لینا چاہی تو اسی وقت میرے لیپ ٹاپ پر گوگل نے غلط ٹریفکنگ کے ”جرم“ میں کسی بھی قسم کی سرچ کرنے پر پابندی عائد کردی۔ خاصی تگ و دو کے بعد جب کچھ حاصل نہ ہوا تو مجھے دوسرے سرچ انجن سے خدمات مستعار لینا پڑیں۔ یعنی ہم مغرب کے اس قدر محتاج ہوگئے ہیں کہ ان کے بغیر جدید دنیا میں زندہ رہنا بھی محال ہو چکا ہے۔ خیر اگر ہم ہالوکاسٹ کی مختصر تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہودیوں کے دعوے کے مطابق دوسری جنگ عظیم (1939ء سے 1945ئ) کے دوران 60 لاکھ یہودیوں کو ہٹلر نے گیس چیمبر میں ڈال کر ہلاک کردیا۔ جسے تاریخ میں ہولوکاسٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ یہودیوں کے اس دعوے کی مخالفت میں بھی محققین کی تحقیق موجود ہے جو اس واقعہ کی حقیقت کا سرے ہی سے انکار کرتے ہیں جبکہ بعض تو 60 لاکھ یہودیوں کی ہلاکت کی بجائے چند ہزار افراد کی ہلاکت بتاتے ہیں۔لیکن ہلاکتیں تو ہوئی ہوںگی، چند ہزار کیا یا چند لاکھ کیا۔ یا پورے 60لاکھ کیا….ہولو کاسٹ کے مرنے والوں کو اس قدر مقدس درجہ عطا کیا گیا کہ ان کے خلاف لب کشائی کرنے والا نفرت پھیلانے والا قرار دے کر قابل تعزیر بنادیا گیا۔ ہولوکاسٹ کی نہ صرف تردید کرنا جرم ٹھہرا، بلکہ یہودیوں کی جانب سے بیان کردہ ”مقتولین“ کی ساٹھ لاکھ تعداد میں چند ایک کی کمی کرنا بھی قابل سزا جرم بنا دیا گیا۔

متعدد یورپین صحافی، مصنف اور کالم نگار ہولوکاسٹ میں یہودیوں کی جانب سے بیان کردہ تعداد کو صرف غلط کہنے کی پاداش میں جیلوں میں بند کردیے گئے۔ ہولوکاسٹ کے خلاف زبان کھولنے والے دانشوروں کے صرف ملکی ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر وارنٹ جاری کیے گئے۔ حالانکہ تحقیق کا دروازہ کبھی اور کسی ملک میں بند نہیں ہوتا، لیکن ہولوکاسٹ پر تحقیق کرنا اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرنا بھی قابل تعزیر جرم قرار پائے ہیں۔بہت سے ممالک میں ہولوکاسٹ پر زبان بندی کے حوالے سے سخت قانون سازی کی گئی، صرف یورپ کے تقریباً تین درجن ممالک میں ہولوکاسٹ کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، جن کے تحت اس بارے میں ہر نوعیت کا منفی اظہار رائے جرم ہے، جس پر قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ برطانیہ کی لبرل پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ نے اپنے بلاگ میں صرف یہ لکھ دیا تھا کہ ”میں ہولوکاسٹ کے دور میں یہودیوں کے لیے پیش آئے ناقابل یقین واقعات پڑھ کر غم زدہ ہوجاتا ہوں، لیکن یہودی جنھوں نے یہ مصائب و آلام برداشت کیے ہیں، وہ کیونکر فلسطینیوں کے خلاف مظالم ڈھا رہے ہیں۔“اس بلاگ کے بعد ڈیوڈ وارڈ پر اس قدر دباﺅ بڑھا کہ اسے مجبوراً معافی مانگنا پڑی۔ دوسری جانب ہولوکاسٹ کے حوالے سے اسرائیل کی پارلیمنٹ حکومت کو یہ اختیار دے چکی ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی،کسی بھی جگہ کوئی شخص اگر 60 لاکھ کی تعداد کو کم بتانے کی کوشش کرے،اس پر مقدمہ چلا سکتی ہے اور اس ملک سے اسے نفرت پھیلانے کے جرم میں کریمینل ہیٹ کے طور پر مانگ سکتی ہے، گرفتار کرسکتی ہے، سزا دے سکتی ہے۔عالمی برادری نے ہولوکاسٹ کے حوالے سے بغیر تحقیق کیے سخت سے سخت تر قوانین بنا دیے، لیکن کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ کیا دوسری جنگ عظیم کے وقت جرمنی میں ساٹھ لاکھ یہودی آباد بھی تھے یا نہیں؟اور جو آباد بھی تھے ان میں سے بیشتر کو ہٹلرکے حکم پر جنگ عظیم کے شروع ہونے سے پہلے ہی ملک بدر نہیں کردیا گیا تھا؟

اب اگر چند ہزار یا چند لاکھ یہودی اپنی لابی کو مضبوط کر کے یورپ کے بڑے ممالک میں قانون سازی کروا سکتے ہیں تو مسلمان ایسی قانون سازی کیوں نہیں کروا سکتے ۔ آسٹریا، بیلجیئم، جمہوریہ چیک،اسرائیل، لکسمبرگ، پولینڈ، پرتگال سویٹزرلینڈ، فرانس اور جرمنی وغیرہ وہ ممالک ہیں جہاں قوانین کے تحت ہولوکاسٹ پر نظرثانی اور تحقیق ایک جرم ہے۔ یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ پر شک کے اظہار یا اس کے وقوع پذیر ہونے سے انکار کو قابل نفرت سمجھا جاتا ہے۔تو ایسا ہی قانون اسلام کے لیے کیوں نہیں بن سکتا؟ 

 یقین مانیں ہالینڈ میں جس ویب سائیٹ پر ہنگامہ کھڑا ہوا اس کی آمدنی ملین ڈالرز میں چلی گئی ہے ۔ اور جو شخص گیرٹ وائلڈرز یہ کام کر رہا ہے وہ اپنے گستاخانہ آئیڈیا سے ارب پتی ہو چکا ہے۔ اس وقت ہالینڈ کے وزیرِ اعظم مارک رُتے سہی، لیکن دنیا بھر میں ملک کے سب سے گیرٹ وائلڈرز ہیں۔اور اب وہ سیاست میں بھی آچکا ہے۔ ان کی شہرت کی وجوہات مثبت کی بجائے منفی ہیں اور انھیں دنیا بھر میں اسلام دشمن کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔اس سے پہلے وہ قرآن پر پابندی لگانے، اسلام مخالف فلم بنانے اور مسلمان تارکینِ وطن کو نیدرلینڈز سے نکالنے کی مہم چلانے جیسے متنازع کاموں میں ملوث رہ چکا ہے۔اسے گالیاں دینے یا اُس پر لعنت بھیجنے سے شاید اُسے کوئی فرق نہ پڑتا ہو، یا یوں کہہ لیں کہ ہمیں اپنے دل کی تسلی ہو جائے مگر ہمیں سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیائی جنگ سے ہم پر فورتھ کیٹگری کی جنگ مسلط کی جارہی ہے جس سے ہمارے جذبات کو ابھارنے اور انہیں اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ شام، لبنان، عراق اور افغانستان اسی جنگ میں جل رہے ہیں۔ ہم تعلیم اور آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر آئی ہر آواز کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ مجبوری یہ ہے کہ ہمارے پاس وہ سسٹم ہی موجود نہیں جو ان بڑے سوشل میڈیائی نیٹ ورکس کو فلٹر کر کے عوام کے سامنے رکھ سکے۔ مگر حیرت ہوتی ہے کہ یہودیوں نے اس حوالے سے قانون سازی کر کے بڑی ویب سائیٹس سمیت دنیا کی بڑی حکومتوں کو اس بات پر پابند کر دیا ہے کہ وہ ہالو کاسٹ پر بات نہ کریں اور نہ اس حوالے سے کوئی تحقیق کرے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں