Fazal-ur-rehman-Politics-With-Zardari-and-Nawaz

مولانا فضل الرحمان اپنی سیاست اور کرپشن بچانے کے لیے زرداری اور نواز شریف کے در پر

لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے کہا ہے کہ چھوٹے بھائی شہباز شریف سے مشاورت کے بعد اے پی سی میں شرکت کا حتمی فیصلہ کریں گے۔
لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے کہا ہے کہ چھوٹے بھائی شہباز شریف سے مشاورت کے بعد اے پی سی میں شرکت کا حتمی فیصلہ کریں گے۔جبکہ خبر یہ آ رہی ہے کے نواز شریف مولانا کی سیاست کی بجائے اپنی کرپشن بچانے میں مصروف ہیں .
‏بجلی چوری کے خلاف وزیراعلیٰ پنجاب نے آپریشن کا آغاز کر دیا
عمران خان بیرون ممالک تعلقات میں کامیاب ، اپوزیشن کی اے پی سی بھی ناکام ہو گئی

ان دنوں اپوزیشن این آر آو کے ساتھ ساتھ محاذ آرائی کی سیاست میں مصروف نظر آرہی ہے ، جبکہ عمران خان بیرون ممالک تعلقات بہتر بنانے میں سرگرم ہیں تاکہ ملک کو موجودہ معاشی حالت سے نکالا جا سکے ،
مولانا فضل الرحمان اپنی سیاست اور کرپشن بچانے کے لیے زرداری اور نواز شریف کے در پر
میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف سے ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، معاشی حالات اور مہنگائی کے طوفان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نوازشریف ، شہباز شریف ، آصف زرداری اور باقی اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں بنا کسی ایجنڈے کے عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے سرگرم ہیں جبکہ اندرونی کہانی ناکامی کی داستان سنا رہی ہے ،
‘نواز شریف کے اے پی سی میں شرکت کیلئے بہانے جاری
مولانا فضل الرحمان نوازشریف ، شہباز شریف اور آصف زرداری کے اشاروں پر ناچتے نظر آ رہے ہیں ، کبھی زرداری اور نواز شریف کے گھر کے چکر لگانے کے باوجود بھی تحریک کے لی کوئی سیاسی یا عوامی ایجنڈا نہیں مل رہا . دوسری جانب معاشی بحران اور اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد کا ڈرامہ پہلے ہی دم تور شکا ہے ، جس کی وجہ سے اپوزیشن تذبذب کا شکار ہے ،

میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف سے ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، معاشی حالات اور مہنگائی کے طوفان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اصولی طور پر حکومت کو جائز ہی نہیں سمجھتے، ہم ملک اور قوم کو درپیش معاملات کوسامنے لا رہے ہیں کیوں کہ یہ ناجائز، ٹھگ حکومت ٹھگی کرکے آئی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے کہا کہ شہباز شریف سے مشاورت کے بعد اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ کریں گے، ایسا کوئی اختلاف نہیں کہ نواز شریف اور آصف زرداری ساتھ نہ بیٹھ سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی لوگوں میں معاملات پر اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن سیاسی لوگوں کے درمیان ایسا نہیں ہوتا کہ ملنے سے بھی جائیں جب کہ 70 سال کا تجربہ بتا رہا ہے کہ ہم ترقی کی طرف نہیں بلکہ پیچھے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور حمزہ شہباز کو نیب کے حراست میں موجود شہباز شریف سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں