Extra Paid Officers Case

45 افسران زائد وصول تنخواہیں واپس کرنے پر رضامند

لاہور :افسران کی تنخواہوں پرازخودنوٹس کیس میں 54افسران میں سے 45زائد وصول تنخواہیں واپس کرنے پر رضامند ہوگئے جبکہ 9 افسران نے اضافی وصول کی گئی تنخواہیں واپس کرنے سے انکار کردیا، عدالت نے انکار کرنے والے 9 افسران کو اضافی تنخواہیں تین ماہ میں واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی پنجاب حکومت کی کمپنیز کے افسران کی تنخواہوں پر از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، ڈی جی نیب لاہور نے عدالت میں رپورٹ پیش کی۔
آج رواداری کو دنیا بھر میں فروغ کی ضرورت ہے:بلاول بھٹو زرداری
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 54 میں سے 45 افسران زائد وصول کی گئی تنخواہیں واپس کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں جبکہ 9 افسران نے انکار کر دیا ہے ، اب تک 43 کروڑ 80 لاکھ روپے میں سے 32 کروڑ 30 لاکھ روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے اضافی وصول کی گئی تنخواہ واپس نہ کرنے پر ایم ڈی سیف سٹی اتھارٹی علی عامر ملک کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ گریڈ 21 کے افسر ہو کر ساڑھے چھ لاکھ تنخواہ وصول کر رہے ہیں، آپ کی تنخواہ ڈیڑھ دو لاکھ روپے بنتی ہے، اضافی رقم کس مد میں وصول کر رہے ہیں، آپ لوگوں نےملک کے ساتھ زیادتی کی ہے، ایک محکمے میں آپ کو خوش کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹی اتھارٹی اکبر ناصر خان بھی عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے اپنی تنخواہ سے چھ گنا زائد تنخواہ کیوں وصول کی، تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے ایک نئے پراجیکٹ پر کام کیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ لوگوں نےدوسروں کے ساتھ مل کر عوام کاپیسہ لوٹاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں