لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ کی جانب سے رد کیے جانے پر پڑھے لکھے حلقوں کا شدید ردعمل

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ کی جانب سے رد کیے جانے پر پڑھے لکھے حلقوں کا شدید ردعمل سامنے آ گیا .

لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کے فیصلے کو سپریم اور قائم مقام حکومت نے مسترد کر دیا . جس پر پرھے لکھے حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا. پڑھے لکھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ایسے الیکشن کو مسترد کرنے کی آواز بلند کر دی ہے جس میں کرپٹ اور نااہل لوگوں کے لیے الیکشن لڑنے کی راہ ہموار کی گئی ہے . سوشل ورکر ، سماجی تنظیموں اور پڑھے لکھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف احتجاجا الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی تحریک شروع کرنے کا بھی عندیا دیا . ان کا کہنا تھا اگر ایسے لوگوں کو ہی آگے لے کے آنا مقصد ہے تو پھر پڑھے لکھے لوگ اس الیکشن کا مکلم طور پر کابائیکاٹ کریں

اور اگر اس تحریک نے زور پکڑا تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد الیکشن کا بائیکاٹ کر دیتی یے تو پھر ایسے الیکشن کی کیا اہمیت رہ جائے گی .
ان کا مزید کہنا تھا کے صاف اور شفاف الیکشن ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہو سکتے ہیں جس کے لیے مکمل طور پر اسٹبلشمنٹ ، عدلیہ اور دیگر تمام اداروں کو مطلع کیا کے ایسے الیکشن کے لیے راہ ہموار نہ کی جائے جس سے کرپٹ اور جاہل لوگ اسمبلیوں میں پہنچ جائیں

It will be a brilliant move to initiate a countrywide campaign that if the LHC Judgement given by Justice Ayesha Malik is not taken up again by the Supreme Court or not accepted by the Establishmemt (who ever comprises it) & the Interim Government, we all (masses, educated classes and the intelligentsia) must bycot the coming elections by not casting our votes. This must be spread countrywide through wide publicity by use of the social media, the mass media and door to door campaign, distribution of leaflets etc. We could involve all like minded people, friends, colleagues, veterans, public call, door to door campaign etc. through all possible means. See if we can give this a practical shape. It will be a great service to our country if we can ensure its cleansing of corrupt leadership. This will be a trendsetter and lead to ensuring cleansing of all public & private sectors, government and non-government bodies, departments, organisations, groups etc. Regards.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں