Extra Paid Officers Case

ڈی ایچ اے لاہور سٹی فراڈ کیس کے مرکزی ملزم حماد ارشد کی گرفتاری

لاہور :ڈی ایچ اے لاہور سٹی فراڈ کیس کے مرکزی ملزم حماد ارشد کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت

لاہور :عدالت نے فریقین کے وکلاء کو 15 نومبر کو دلائل کے لیے طلب کر لیا

لاہور :جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ حماد ارشد کی درخواست پر سماعت کی:حماد ارشد نے نیب کی جانب سے گرفتاری کو چیلنج کررکھا ہے

14جون 2010 کو ڈی ایچ اے اور گلوبیکو کے حماد ارشد کے درمیان معاہدہ طے پایا،نیب کو2مارچ 2011 کو ملزمان کے خلاف پہلی شکایت موصول ہوئی،4فروری 2015 کو نیب نے شکایات کی تصدیق کی، شہری نعمان دائود اور ڈی ایچ اے کی جانب سے شکایت پرچارمئی کو حماد ارشد، مراد ارشد اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد نذیر بٹ کے خلاف انکوائی شروع کی گئی،ملزم نے 25 ہزار کنال اراضی کی بجائے 2ارب10 کروڑ سے 13 ہزار 92 کنال،چار ٹکڑوں کی شکل میں دی،حماد ارشد کی جانب سے فراہم کی گئی اراضی، دریا میں ہے،جہاں سڑک ہی نہیں جاتی،ملزم حماد ارشد نے 10 ہزار 5 سو 45 جعلی الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے،

نیب حکام کا کہنا تھا کہ حماد ارشد اور دیگر ملزمان نے جعلی الاٹمنٹ لیٹرز جاری کرکے 15 ارب 47 کروڑ اور 60 لاکھ روپے بٹورے،25ہزار کنال اراضی میں سے 30 فیصدپلاٹس شہداکو دیے جانے تھے،حماد ارشد نے 5 جون 2013 کو ڈی ایچ اے کی مرضی کے بغیر 1 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد رقم اکائونٹ سے نکالی،شریک ملزم حماد ارشد نے 10 ارب 98 کروڑ روپے ذاتی اکائونٹ میں جمع کرادیے،شریک ملزمان کامران کیانی اور طارق صدیق کو احتساب عدالت مفرور قرار دے چکی ہے، ملزمان کی انٹرپول کے زریعے گرفتاری کیلیے نیب کی جانب سے وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا جا چکا ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں