court hand over children to father

دو بچوں کا والدہ کے ساتھ جانے سے انکار عدالت نے بچے باپ کے حوالے کر دیے

لاہور ہائیکورٹ میں دو بچوں کا والدہ کے ساتھ جانے سے انکار عدالت نے بچوں کو باپ کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی.جسٹس شہباز رضوی نے بچوں کی والدہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکم دیا ۔

وکیل درخواستگزار نے موقف اپنایا کہ شوہر فاکر حسین نے اپنی بیوی کو ایک سال قبل طلاق دی تھی،میاں بیوی میں اکثر اوقات معمولی باتوں پر لڑائی جگھڑا رہتا تھا.مجھ سے میرے دونوں بچے بھی چھین لیے۔ بچوں کی ماں سے بہتر کوئی بھی پرورش نہیں کر سکتا ہے،
مال روڈ پر دھرنوں اور احتجاج پر پابندی کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی درخواست دائر
وکیل درخواستگزار نے استدعا کی کہ عدالت بچوں کو بازیاب کرا کے میرے حوالے کرنے کا حکم دے، عدالتی حکم پر پانچ سالہ ارباب اور سات سالہ علی حسین نے والد کے ساتھ پیش ہوئے .کمرہ عدالت میں دونوں بچوں نے والدہ کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور والد کے ساتھ رہنے کے لیے اصرار کیا.
نیب کسی سے زیادتی نہیں کرتا:چیئرمین نیب
عدالت نے تمام دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بچوں کی رضامندی پر بچے باپ کے حوالے کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں