social media act

سوشل میڈیا پرعدلیہ مخالف مواد کی اشاعت پر پابندی کے لیے درخواست پر اہم سماعت

لاہور ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پرعدلیہ مخالف مواد کی اشاعت پر پابندی کیلئے دائر درخواست پر وفاقی وزارت ٹیلی کمیونیکیشن اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے توہین عدالت کے کیس میں وزیر داخلہ احسن اقبال کی طلبی کے کیس کی سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی کردی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی تین رکنی بنچ درخواستوں پر سماعت کی .
سیاسی و جمہوری عمل میں پرتشدد رویہ قابل قبول نہیں: جماعت اسلامی

درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف مواد شائع کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ بعض لوگ جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف مواد شائع کررہے ہیں،

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف مواد شائع کرنا آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت توہین عدالت ہے، انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد شائع کرنا سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے،
پاکستان سے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کردیا: وزیر اعظم
انہوں نے استدعا کی کہ عدالت سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کی اشاعت پر پابندی کا حکم دے، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے سعد رسول ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اورعدالت سے جواب داخل کرنے کی مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے سوشل میڈیا پرعدلیہ مخالف مواد کی اشاعت پر پابندی کیلئے دائر درخواست پر وفاقی وزارت ٹیلی کمیونیکیشن اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے نو مئی کو جواب طلب کر لیا ،

دوسری جانب عدالت نے توہین عدالت کے کیس میں وزیر داخلہ احسن اقبال کی طلبی کے کیس کی سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں