CJP saqib-nisar took Notice Of Dam

پاکستان کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ ہر گھر میں 7بچے پیدا ہوں۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار

اسلام آباد:(نسرین اختر) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ ہر گھر میں 7بچے پیدا ہوں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بڑھتی آبادی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں آبادی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے،کیا ملک اس قابل ہے کہ ایک گھر میں 7بچے پیدا ہوں۔

شہبازشریف نے تاریخی لاہور کو ڈبن پورہ بنا دیا: چودھری پرویزالٰہی

انہوں نے مزید کہا کہ آبادی کی شرح میں اضافہ بم ہے، وفاقی حکومت نے آبادی کی شرح پرقابو پانے کیلئے اب تک کتنا پیسہ استعمال کیا؟ ایوب خان دورمیں بھی آبادی کی شرح میں کنٹرول کیلئے پالیسی تھی،ملکی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کس چکرمیں پھنس گئے ہیں کہ بچے کم پیدا کرنا اسلام کیخلاف ہے، کیا ملک میں اتنے وسائل ہیں؟
صباءقمر کے بولڈ فوٹو شوٹ نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کردیا

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آبادی کنٹرول میں بیٹھے لوگ صرف مفت کی تنخواہیں لے رہے ہیں،فلاحی مراکز میں چائے کے کپ پر گپ شپ چلتی ہوگی اس بارے میں عوام کی آگاہی صفر ہے۔چین نے بھی اپنی آبادی کنٹرول کی ہے۔

بیگم کلثوم نواز کی صحت سے متعلق اہم خبر آگئی

نمائندہ ڈویلپمنٹ سیکٹر نے عدالت کو بتایا کہ لوگوں کو بچے پیدا کرنے سے نہیں روک سکتے۔ چیف جسٹس بولے کہ آبادی کنٹرول کے حوالے سے تمام منصوبے کاغذوں کی حد تک ہیں۔
ہ نواز شریف نے میر ےساتھ بے وفائی نہیں دشمنی کی ہے:چودھری نثار

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ مناسب وقفے کے حوالے سے قرآن میں بھی آیات موجود ہیں شہریوں کوبہترمستقبل کی کوئی امید نہیں دے رہے ریاست کوذمہ داری لینا ہوگی ۔

سپریم کورٹ نے فریقین کومل کرآبادی کنٹرول سے متعلق خاکہ بنانے کی ہدایت کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں