CJP Took Notice Of Darna

اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ میں بارش کا پانی بھر جانے کے معاملے پر رپورٹ پیش کر دی گئی

سپریم کورٹ نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ میں بارش کا پانی بھر جانے کے معاملے پر حقائق کے برعکس پیش کی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا، چیف جسٹس نے سول ایوی ایشن اور پی آئی اے افسران کے تفریحی دورے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو غریب عوام کے ٹیکسوں کے پیسے برباد کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے از خودکیسز کی سماعت کی،عدالتی حکم پر نئے اسلام آباد ائیرپورٹ پر پانی کھڑے ہونے کی ویڈیو دکھائی گئی ،جس پرعدالت نے رپورٹ کو غیر تسلی بخژ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ویڈیو میں جتنا پانی نظر آرہا ہے رپورٹ میں اس کا تذکرہ معمولی انداز سے کیا گیا ہے،ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا کہ پانی زیر تعمیر عمارت میں جمع ہوا،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عدالت ے سامنے نئی عمارت میں پانی کھڑے ہونے کا ہی سوال ہے. ،

سپریم کورٹ نے ائیر پورٹ پر پانی کھڑا ہونے کے معاملے کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور متقلقہ حکام کو باور کرایا کہ کیوں نہ یہ معاملہ ایف آئی اے میں بھیجا دیا جائے اور غلط رپور ٹ پیش کرنے پر کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے، تفریحی دورے پرجانے والے ڈی جی سول ایوی ایشن اور دیگر افسران کےدورے سے متعلق ٹکٹ ودیگر اخراجات کی رسیدیں عدالت میں جمع کرا دی گئیں،پی آئی اے کے وکیل نے بتایا کہ کل 42 افسران تفریحی دورے پر گئے اور 23 لاکھ روپے سے زائد اخراجات آئے،

جس پر عدالت نے قائم مقام ڈی جی سول ایوی ایشن اوردیگر افسران پر سخت اظہار برہمی کیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیا یہ عیاشی کیلئے مفتے کا ملک ہے ، ادارے کے لیے اصول وضع کرنے کی بجائے نانگا پربت کی سیریں کرتے رہے،چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو غریب عوام کے ٹیکسوں کے پیسے برباد کرنے کی اجازت نہیں دینگے،عدالت نے کیس پر مزید سماعت 31 جولائی تک ملتوی کردی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں