Chairman-pemra-in-Danger

چیئرمین پیمرا کے خلاف سازشوں کا جال

ہمایوں سلیم
چیئرمین پیمرا کے عہدے پر گزشتہ کئی سال سے جو بھی آیا وہ پریشانی کا شکارہی ہوتا رہا ہے۔ ادھر ادھر کے مسائل کے باعث وہ ٹھیک طرح اپنی ذمہ داریاں بھی نہیں نبھا سکا۔ قصہ رشید چودھری سے شروع ہوا انہیں نا پسندیدہ شخص قرار دے کر کسی نہ کسی طرح گھر بھیج دیا گیا جس طرح رشید چودھری کو گھر بھیجا گیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے، ابصار عالم کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا گیااور اب موجودہ چیئرمین پیمرا سلیم بیگ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ بیوروکریسی کے ہی کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ انکی شکل پسند نہیں آ رہی اس لئے وہ دن رات ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کسی نہ کسی طرح دوران ڈیوٹی الجھائے رکھا جائے تاکہ وہ اپنے محکمے پر توجہ نہ دے سکیں ۔ ابصار عالم کے بعد ہر طرح کی تحقیق کے بعد سلیم بیگ جو پی آئی او تھے کو باقاعدہ ایک ضابطہ کے تحت منتخب کیا گیا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں بھی شاید کوئی نادیدہ قوتیں کام سے روکنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ انہیں نیب کے ایک ایسے ریفرنس میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے نیب کا ادارہ انہیں پہلے ہی باعزت بری کر چکا ہے۔ لیکن اچانک ایک نوٹس دوبارہ جاری کر دیا گیا اور انہیں نہ صرف الجھایا گیا بلکہ میڈیا میں اس نوٹس کی ایسی تشہیر کی گئی کہ جیسے یہ ریفرنس ثابت ہو گیا ہے اور چیئرمین پیمرا ابھی سے مجرم بن گئے ہیں۔
قصہ دراصل یہ ہے کہ ڈی ایم جی گروپ کے ایک صاحب کی خواہش تھی کہ یہ عہدہ ڈی ایم جی گروپ کو دیا جائے۔ اس خواہش میں ناکامی کے بعد انہوں نے سلیم بیگ کے خلاف ایک نیا جال تیار کیا اور اپنے نیب کے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک بے سروپا ریفرنس تیار کرایا، یعنی کہ چیئرمین پیمرا کی اسامی کے لئے میرٹ پر کوالیفائی کرنا ان کا جرم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قبل ازیں انہی لوگوں نے چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن کسی نہ کسی طرح روکے رکھا بالآخر سپریم کورٹ آف پاکستان کی مداخلت سے ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اب ذرا دیکھیں کہ بنائے جانے والے ریفرنس کی حقیقت کیا ہے۔ ایک ایسا کیس بنایا گیا جس میں اس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمام سرکاری محکموں میں یہ عام پریکٹس ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا انتخاب کرتے ہیں چاہے وہ مستقل ہو یا ایڈہاک اور یہ پریکٹس خود نیب میں بھی موجود ہے۔ ایجنسی کی تقرری دو طرح سے ہی ہو سکتی ہے۔ مستقل اور قانون کے تحت کوئی بھی محکمہ ایڈہاک تقرری مخصوص حالات میں کرنے کا مجاز ہے اور تقرری کر کے ایک مراسلہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ پہنچا دیا جاتا ہے اور اس سارے کیس میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا کردار صرف ایک ڈاکخانہ کا ہوتا ہے۔
2012ءمیں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی ایڈہاک تقرری کی اور وزارت اطلاعات و نشریات کو قاعدے کے تحت ایک مراسلہ جاری کر دیا جسے انفارمیشن افسر نے روٹین میں پراسس کیا اور یہ سلسلہ تو 1947ءسے جاری ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو نیب کو اس طرح کے سیکڑوں ریفرنس بنانے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ میں نیب کا کردار جہاں قابل تحسین رہا وہاں اس پر تنقید بھی ہوتی رہی، بہت سے ایسے کیس سامنے آئے جن میں کچھ نہیںنکل سکا لیکن نیب کے دفتر میں انہیں مجرموں کی طرح نہ صرف طلب کیا جاتا رہا بلکہ متعلقہ شخص کے آنے سے پہلے وہاں میڈیا کو اطلاع کر دی جاتی، اس طرح متعلقہ شخص خوب ذلیل ہوتا، ہمارا میڈیا بھی بدقسمتی سے ایسے کسی فرد کو مجرم کی طرح ہی ذلیل کرتا رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے لئے نیب کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، کیا اس کے پاس ہر شہری کی پگڑیاں اچھالنے کا لائسنس ہے یقینا ایسا نہیں ہے اور نہ ہی چیئرمین نیب ایسا چاہتے ہیں سوال یہ ہے کہ پھر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔مسئلہ صرف سلیم بیگ کا نہیں اگر نظر دورائین گے تو ایسی بہت سی مثالیں مل جائیں گی جن کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
دراصل یہ تمام وہ سرگرمیاں ہیں جو چیئرمین نیب کی قومی خدمات پر پانی پھیرنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ چیئرمین نیب کو اس سلسلے میں خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ خاص کر یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کون سے ایسے عوامل اور کون سے ایسے لوگ ہیں جو ان کی قومی خدمات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ایسی تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے جن سے نیب کے کردار پر سوالیہ نشان سامنے آ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں