داتا کی نگری لہو لہو


(تحریر نوید عالم, (صحافی،بلاگ رائیٹر،ایکسپریس نیوز

صوفی بزرگ داتا دربار ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر
پاکستان میں شدت پسندی کی لہر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے شروع ہوئی اور اس دوران صوفی بزرگوں کے متعدد مزارات اور درگاہیں بھی دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنیں۔
داتا دربار پر دہشت گردی کے تازہ حملے میں دس لوگ جاں بحق اور چالیس کے قریب شدید زخمی ہوئے۔ پنجاب کے بڑے شہر میں خود کش حملے نے ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی ایک ذیلی جماعت جماعت الحرار نے داتا دربار پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان عبدا لعزیز کے مطابق ایسے حملے جاری رہیں گے۔
داتا دربار پر دہشت گردوں کا یہ دوسرا بڑا حملہ تھا۔ اس سے پہلے جولائی 2010 کو دو خودکش بمباروں نے دربار کے احاطے میں داخل ہوکر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور 175 زخمی ہوئے تھے۔
گزشتہ دہائ میں تحریک طالبان پاکستان اور ان کے دہشت گرد گروپوں نے ملک کے تعلیمی اداروں، مساجد، چرچ، عبادت گاہ، اسپتال ، پارک سمیت کوئ بھی جگہ نہیں چھوڑی جہاں معصوم لوگوں کو بے رحمی سے قتل نہ کیا ہو۔ علمائے دین اور امن کمیٹی کے ارکان بھی ان کا نشانہ بنے۔
ٹی ٹی پی کی دہشت گردی میں 90 ہزار پاکستانی اب تک جاں بحق ہو چکے ہیں جس میں زیادہ تر تعداد نمازیوں اور دیگر مذہبی اجتماعات میں شامل ہونے والے لوگوں کی ہے۔دہشت گردوں نے گزشتہ سالوں میں کئ صوفیا کرام کے مزاروں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ ابتدائ تحقیقات کے مطابق داتا دربار پر حملہ آور ایک چھوٹا بچہ تھا جس نے پولیس کی وین کے قریب خود کو اڑا لیا۔ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد گروپس خود کش حملوں میں زیادہ تر بچوں کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ معصوم بچوں کو اسلام، جنت اور حو روں کے لالچ میں تیار کیا جاتا ہے اور پھر گھناؤنی اور دہشت گرد کارروائیوں میں بھیجا جاتا ہے۔
سابق آرمی چیف جرنل راحیل شریف کے دور میں تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد جماعتوں کے نیٹ ورک کو کافی حد تک توڑ دیا گیا تھا۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے گروپس بھی قانون کے شکنجے میں آئے تھے لیکن دہشت گردی کی حالیہ کارروائیو ں کے بعد حکومت اور سیکورٹی اداروں کو نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد پوری شدت سے کرنا ہو گا۔
دہشت گردی کے علاوہ فنڈز اکھٹا کرنے کے لئے تحریک طالبان کے رکن مختلف جرائم میں ملوث رہتے ہیں جن میں اغوا برائے تاوان اور بینک ڈکیتیاں شامل ہیں ۔ کراچی سے دو ڈاکو پکڑے گئے جن سے ہینڈ گرنیڈ اور کلاشنکوفیں برآمد ہوئیں، یہ دونوں قتل، اغوا اور ڈکیتی کے درجنوں مقدمات میں مطلوب تھے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کے ذریعے رقم اکٹھا کر کے تحریک طالبان کو بھجواتے تھے۔ طالبان نے پاکستان کے محکمہ کسٹمز کے کئی اہلکار اغوا کیے ہیں جن کے لیے کروڑوں روپے تاوان مانگاگیا۔
ہزاروں جانیں گنوانے کے باوجود ابھی تک پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد نظر نہیں آتی۔ خوف کی وجہ سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کمزور سیاسی موقف اور دائیں بازو کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا طالبان کے لئے نرم رویہ بھی قومی اتحاد میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

پاک فوج کی جانب سے شر پسند عناصر کے خلاف کئی جامع آپریشننز کیے گئے جن میں سوات آپریشن ،آپریشن راہ نجات اور ضرب عزب قابل ذکر ہیں۔
اس وقت بھی ردالفساد کے نام سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن جاری ہے۔لیکن یہ آپریشن کافی نہیں ۔اس وقت بھی ہمارے ملک میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں جہاد کے نام پر چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے ان علاقوں میں جنوبی پنجاب کی پسماندہ علاقے بھی شامل ہیں ۔
فوجی آپریشنز کے علاوہ مائینڈ سیٹ کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ادارے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا انتہا ئ ضروری ہے۔ تعلیم، ترقی ، روزگار کے بغیر دہشت گرد حملوں کو روکنا آسان نہیں ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں