Ali ahmed column on dam issue

اب ڈیم تو بن کر رہیں گے! علی احمد ڈھلوں

میں کوئی ڈیم ایکسپرٹ تو نہیں، نہ ہی میں اس حوالے سے بحث میں شرکت کرتا ہوں کہ دیا میر بھاشا ڈیم پر کتنی لاگت آئے گی کتنی نہیں، چونکہ یہ میری فیلڈ بھی نہیں اس لیے اس حوالے سے بھی رائے دینے سے قاصر ہوں کہ ڈیم کتنے عرصے میں بنے گا؟ ہاں البتہ میں جن علاقوں میں جہاں ڈیم بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں وہاں ایک سے زیادہ مرتبہ ”ارسطو“ بن کر گیا ضرور ہوں۔ دیا میر بھاشا ڈیم بنانے کا مقام نانگا پربت کے قریب ہے۔ نانگا پربت پاکستان کا دوسرااور دنیا کا نواںبلند ترین پہاڑ ہے، کوہ پیما اسے کلر ماﺅنٹین بھی کہتے ہیں، یہ قاتل پہاڑ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں واقع ہے، نانگا پربت کے دامن میں فیری میڈوز جیسی خوبصورت وادی ہے اور اس وادی سے نیچے چلاس اور چلاس سے 41 کلومیٹر کے فاصلے پر بھاشا گاﺅں آباد ہے، نانگا پربت کے گلیشیئرز سے درجنوں ندیاں نکلتی ہیں، یہ بھاشا کے قریب پہنچ کر دریائے سندھ میں گر جاتی ہیں، اس مقام پر ڈیم بنانے کا خیال ماہرین کے دماغ میں اس وقت آیا جب اس علاقے کا فضائی جائزہ لیا جا رہا تھا۔ یہ علاقہ تین اطراف سے پہاڑوں میں اٹا ہوا ہے جبکہ محض ایک طرف بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ یعنی قدرتی طور پر یہ پاکستان کے لیے بنا بنایا ڈیم ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ بنا بنایا ڈیم ہے تو اس پر 12سے 15ارب ڈالر لاگت کیوں آرہی ہے۔ اصل مسئلہ یہاں پر سامان کی ترسیل ہے، گلگت سے اس علاقے تک اگر سفر کیا جائے تو عام چھوٹی گاڑی 7سے 8گھنٹے میں بمشکل پہنچتی ہے، پتھریلے راستے میں بربرے پہاڑ آتے ہیں جن کی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بنا بنایا راستہ تباہ ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے اس راستے کو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے کم و بیش 2ارب ڈالر درکار ہیں اور کم از کم 3سال کا عرصہ درکار ہے۔ اُس کے بعد بند باندھنے اور ٹربائن کی ترسیل کا کام ہوگا ۔ جنرل پرویزمشرف نے 2006ءمیں یہاں بھاشا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا، وزیراعظم شوکت عزیز نے 2007ءمیں اس کا سنگ بنیاد رکھا، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو یہ ڈیم نئی حکومت کو ترکے میں مل گیا، یوسف رضا گیلانی نے بھی اکتوبر 2011ءمیں ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا،میاں نواز شریف کی حکومت آئی تو انہوں نے بھی دو وزراءاعظم کے سنگ بنیاد کے اوپر سنگ بنیاد رکھ دیامگر تین سنگ بنیادوں کے باوجود یہ ڈیم نہ بن سکا، یہ 2016ءمیں مکمل ہونا تھا لیکن قوم کے دس سال اور اربوں روپے ضائع ہونے کے باوجود یہ نہ بن سکا، ان دس برسوں میں ڈیم کی لاگت 395ارب روپے سے 928 ارب روپے ہو گئی اور پراجیکٹ مشکل ہوگیا، یہ ڈیم اگر بن جائے تو پاکستان کو چار فائدے ہوں گے، نانگا پربت کے گلیشیئرز سے ہر سال 50 ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے،یہ ڈیم ساڑھے چھ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کر کے باقی پانی دریائے سندھ میں گرا دے گا، ڈیم کے پانی سے ڈیرہ اسماعیل خان کا چھ لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہو گا، خوراک میں اضافہ ہو جائے گا،ڈیم سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور ہمارے ملک میں ہر سال سیلاب وسیع پیمانے پر تباہی مچا تے ہیں،ڈیم کی وجہ سے اس تباہی میں بھی کمی آجائے گی۔ اس ڈیم کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کو پانی کے حوالے سے بھارت کی محتاجی بھی کم سے کم ہوگی، یعنی اس ڈیم کے لیے پانی کا محض 20فیصد حصہ بھارت سے آتا ہے، جسے اگر بھارت روک بھی لیتا ہے تو ڈیم کو فرق نہیں پڑے گا۔
یہ تو تھا ڈیم کے حوالے سے مختصر سا جائزہ (اگر کہیں میں غلط ہوں تو تصیح کر دیجیے گا، ممنون رہوں گا) اب آتے ہیں کہ کیا وزیر اعظم عمران خان کے قائم کردہ ڈیم فنڈاور چیف جسٹس کے قائم کردہ ڈیم فنڈ سے حاصل ہونے والی رقم سے ڈیم بنے گا یا نہیں؟ اور کیا کبھی کوئی پراجیکٹ اس طرح اپنی مدد آپ کے تحت مکمل ہوا ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے ملائشیا کے ڈیم بنانے کی مثال سب کے سامنے ہے پھر پڑوسی ملک چین سے اگر ہم کچھ سیکھ سکتے ہیں تو وہ اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کئے گئے بڑے بڑے منصوبے مکمل کر چکا ہے۔ ماو ¿زے تنگ کے دور میں چین نے جو بھی معاشی کامیابیاں حاصل کیں وہ اپنی مدد آپ کے تحت منصوبوں کی تکمیل تھی۔ ماو ¿ کا خیال تھا کہ چین کی عظیم افرادی قوت اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ ماو ¿ نے ہیومن ریورس کو استعمال کر کے چین میں عظیم الشان منصوبے مکمل کئے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں چین نے اپنی مدد آپ اور خود انحصاری Self Relience کے تصور کے تحت اہم کامیابیاں حاصل کیں اگرچہ ماو ¿زے تنگ کا ”آگے کی طرف عظیم جست“کا منصوبہ جو اس نے 1958ءمیں شروع کیا تھا اور جس کا مقصد چین کو ایک زرعی معیشت کو صنعتی معیشت میں تبدیل کرنا تھا اور جس میں فولاد کی پیداوار کو کلیدی اہمیت دی گئی تھی اس کے بعد 1966ءمیں شروع کی گئی ثقافتی انقلاب کی تحریک بھی شروع کی گئی۔ آپ اس حوالے سے دوسری جنگ عظیم میں تباہ ہونے والے جرمنی کی مثال لے سکتے ہیں جہاں 1972ءمیںSelf Economic Development پروگرام شروع کیا گیا۔ جس کے تحت ملک بھر سے عوام نے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹ لگا کر حکومت کو مختلف اشیاءبنا کر دیں، حکومت نے یورپ کے دوسرے ملکوں میں اسے فروخت کر کے کثیر زرمبادلہ اکٹھا کیا اور آج جرمنی سب کے سامنے ہے۔ دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں اُن کا نام شمار ہوتا ہے۔
اس کے برعکس افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں تمسخر اُڑانے والوں کی تعداد قومی جذبے سے سرشار لوگوں سے زیادہ ہے۔ اس میں سب سے زیادہ کردار ہمارے سیاستدان ادا کر رہے ہیں وہ عوام کو اعتماد میں لینے کے بجائے انہیں باغی کرنے میں اہم کر دار ادا کررہے ہیںاپوزیشن جماعتوں کی رائے یہ ہے کہ بھاشا ڈیم چندے سے نہیں بن سکتا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما تو اپنے طنزیہ تبصروں میں بھاشا ایسے بڑے منصوبے کو چندوں کے ذریعہ مکمل کرنے کو دیوانے کا خواب قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں شرم آنی چاہیے جو ایسی باتیں پھیلارہے ہیں، خورشید شاہ جیسا سیاستدان چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ ڈیم پر سیاست نہ کی جائے، چیف جسٹس ایسا کریں کہ ایک سیاسی پارٹی بنا لیں۔ ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو ایسی باتیں کر رہے ہیں، حالانکہ اگر ڈیم بن جائے گا تو پورا پاکستان اس سے فائدہ اُٹھائے گا۔ لیکن نسلیں تو عوام کی ادھر رہنی ہیں۔ رہی بات سیاستدانوں کی تو وہ پہلے ہی بیرون ملک شفٹ ہو چکے ہیں اور جو رہ گئے ہیں وہ بھی جلد ہی بوریا بستر گول کرکے یہاں سے جانے والے ہیں۔ بہرکیف پیپلز پارٹی اور باقی سیاسی جماعتوں کی رائے بھی یہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کوئی ایسا بڑا منصوبہ نظر نہیں آتا جو اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کیا گیا ہو اس لئے ہمارے ماہرین معیشت پالیسی ساز اپوزیشن والے شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ بھاشا ڈیم ایسا بڑا منصوبہ کنٹری بیوشنز کے ذریعہ کیسے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے سے چیف جسٹس کا کردار مثالی ہے، وہ مخالفت کے باوجود ڈیم فنڈ کے لیے 3سے 4ارب روپے اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کے بعد پرائم منسٹر ڈیم فنڈ میں بھی کثیر تعداد میں فنڈز آرہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے 80لاکھ تارکین وطن سے جو اپیل کی ہے ان کی نصف تعداد نے مطلوبہ رقم عطیہ کر دی تو 4ارب ڈالر ملک میں آئیں گے۔ جو کہ ورلڈ بنک یا چین سے قرضہ لینے سے بہتر ہے۔ اور بہتر ہے کہ کم از کم اس رقم سے آغاز تو کیا جا سکتا ہے۔ اور جب آغاز ہو جائے گا تو پھر عوام خود بخود مزید فنڈز بھی دیں گے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاک فوج بھی اس سلسلے میں ایک ارب سے زائد فنڈ دے چکی ہے۔ اسی لیے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد واپڈا نے دیا مر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام جلد از جلد شروع کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کرد یا ہے۔ دیا مر بھاشا ڈیم کے مین ڈیم اور متعلقہ سٹرکچرز کی تعمیر کے لئے بین الاقوامی اور مقامی تعمیراتی کمپنیوں کی پری کوالیفکیشن کا مرحلہ شروع کر دیا گیا، جس کے تحت بین الاقوامی مسابقتی نیلامی کے ذریعے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں پر مشتمل پانچ جوائنٹ وینچرزنے واپڈا ہاﺅس میں اپنی پری کوالیفکیشن بڈز جمع کرائیں۔ منصوبہ چلاس سے 40 کلو میٹر زیریں جانب دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ 272 میٹربلند آرسی سی ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 8.1 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ 4 ہزار 500 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل منصوبے سے سالانہ 18 ارب یونٹ سے زائد کم لاگت اور ماحول دوست بجلی قومی نظام کو مہیا کی جائے گی۔
اب اعتراض کرنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت سے پہلے اس حوالے سے بات چیت کرکے اعتماد میں لیا جائے ، تو اُن کے لیے یہ کہنا ضروری ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارت کے دو ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان کو ملنے والے پانی کی مقدار متاثر ہونے کا اعتراض اٹھایا گیا تو بھارتی وفد نے پوچھ لیا کہ پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام نہیں تو پھر یہ پانی سمندر میں کیوں ضائع جانے دیا جائے۔ ظاہر اس سوال کا جواب ہماری سابق حکومتوں کی نااہلی اور فیصلہ ساز اداروں کی ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ بہرکیف من حیث القوم ہم سب کا اب یہ اولین فریضہ ہے کہ اپنے ملک کے مسائل حل کرنے کے لئے ”پاکستانی سیاسی“ سوچ کے بجائے یہاں کی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت وطن کو خوشحال بنانے اور مسائل سے نجات دلانے کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیں یہی قائداعظم محمد علی جناح کی سوچ، یہی فکر اور یہی ان کا خواب جو پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد انہوں نے دیکھا اب پورا ہونے جا رہا ہے۔اس لیے یہ میرا بھی عزم ہے بلکہ ہم سب کا عزم ہونا چاہیے کہ اب تو ڈیم بن کر رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں