آپوزیشن کی جانب سے جے آئی ٹی کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے. مریم اورنگزیب

نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ جس دن سے پاناما کیس کا فیصلہ آیا ہے اپوزیشن نے ایک پروپیگنڈا شروع کررکھا ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ پاناما کے بینچ میں شامل 2 ججز نے نوازشریف کے خلاف جب کہ 3 ججز نے وزیراعظم کے حق میں فیصلہ دیا ہے لیکن یہ تاثر بالکل غط ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجبور ہوکر پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں چیف جسٹس آف پاکستان نے عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ اختلافی نوٹ پوری دنیا میں آتا ہے لیکن جس طرح کا تماشا پاکستان میں بنایا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی ایک بیان جاری ہوا ہے جس میں پاناما کیس کے حوالے سے شفاف تحقیقات کا کہا گیا ہے.
وزیرمملکت نے کہا کہ عمران خان کو علم ہونا چاہیے کہ پاکستان آرمی وہ ادارہ ہے جو دہشت گردی کے خلاف ایک جنگ میں برسرپیکار ہے اور ملک کی سلامتی کے لیے جدوجہد میں مصروف عمل ہے، آپ جب بھی قانونی، آئینی، سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متنازع بنانے اور انہیں سیاست میں شامل کرنے کی کوشش اور اس طرح کے بیانات دیں گے تو اس کا مطلب یہ سمجھا جائے گا کہ آپ سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہیں مانتے اور پھر مجبوراً ادارے کے سربراہوں اور ترجمان کو بولنا پڑتا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کے بینچ میں شامل پانچوں ججز نے کورٹ آرڈر میں عمران خان، شیخ رشید اور سراج الحق کی درخواستوں کو مسترد کردیا ہے، اب عمران خان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ خاموشی اختیار کریں اور جے آئی ٹی کے فیصلے کا انتظارکریں، اپوزیشن کی جانب سے جے آئی ٹی کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں