مردان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری کا جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئےکہنا تھا کہ کسی جج نے وزیراعظم کو بے قصور نہیں کہا لہٰذا اب نوازشریف کو بہت جلد جانا پڑے گا۔

آصف زرداری نے کہا کہ مجھ سے پہلے پختونوں کو شناخت دینے کی ہمت کسی نے نہیں کی، سی پیک کو چوری کیا گیا جس کو ہم ان سے واپس لے کر آپ کو دیں گے، سب جگہ سے سن رہا ہوں کہ آپ کے شناختی کارڈ بلاک کیے جارہے ہیں جس کے لیے میں حکومت وقت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں اور مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا ہمارا خواب تھا کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کریں، ہم فاٹا کو کے پی کے میں ملائیں گے اور سب ساتھ مل کر رہیں گے جب کہ پی پی کی حکومت غریب، ہاریوں، لیبر اور عوام کی حکومت ہوگی اور اس میں صرف اور صرف نوکری ہوگی۔
آصف زرداری نے کہا کہ مجھے خیبرپختونخوا کے ہر علاقے میں جانا اور بتانا ہے کہ ان لٹیروں نے پاکستان کے ساتھ کیا کیا ہے، کہاں میں نے پاکستان چھوڑا تھا اور اب یہ کہاں پہنچ گیا ہے، ان کو سوائے اپنی تجوریاں بھرنے کے کچھ نہیں آتا، یہ جب سندھ جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جیب بھر کر آیا ہوں، یہ کیا اپنی جیب سے پیسے دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ ان کے پاس شرم ہے اور نہ عوام کا درد ہے، یہ کس طرح کے حکمران ہیں جو لوگوں سے چھیننا جانتے ہیں دینا نہیں جب کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ لوگوں کو دیا ہے چھینا نہیں، ہماری حکومت دوبارہ بنے گی اور ہم عوام کو دیں گے اور یہی پیپلزپارٹی کا منشور ہے۔
سابق صدر کا کہنا تھا کہ ایک کپتان نکلا ہے وہ خود کو پختون سمجھتا ہے اسی لیے نام میں خان لکھتا ہے لیکن نہ پشتو جانتا ہے اور نہ یہاں کا ایڈریس ہے، کہتا ہے میں خان ہوں اور پٹھان ہوں، پختون بننے کے لیے پہلے پشتو زبان چاہیے اور شجرہ چاہیے لیکن کپتان کا شجرہ سوائے ٹائیگر نیازی کے کسی سے نہیں ملتا، یہ لوگوں کو بیوقوف بناتا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان مجھ سے بھی بڑے ہیں یہ نوجوانوں کے لیڈر کیسے ہوسکتے ہیں، بلاول بچوں کے لیڈر ہوسکتے ہیں لیکن عمران خان نہیں ہوسکتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں