“یونس خان ہوتا تو آج کا میچ جیت جاتے”

یونس خان ٹیسٹ کی تاریخ میں 13 ویں کھلاڑی ہیں جنھوں نے 10 ہزار رنز سکور کیے ہیں
آپ کو یاد ہے سری لنکا کے خلاف پاکستان نے چوتھی اننگز میں ایک تاریخی ہدف حاصل کیا تھا۔ اس تاریخی فتح کا مرکزی کردار بھلا کون تھا؟ اس تاریخی شراکت میں شان کے ساتھ دوسرے اینڈ پر کون تھا؟
اور اظہر علی کی وہ اننگز ذرا یاد کیجیے جب یو اے ای میں پہلی بار سیریز ہارنے کے خدشات سر پر منڈلا رہے تھے، پاکستان کو جیت کے لیے دو سیشنز میں 302 رنز درکار تھے حالانکہ پورے 90 اوورز میں پاکستان اوسطاً 250 رنز ہی کیا کرتا ہے لیکن اس روز پاکستان نے چوتھی اننگز میں تیز ترین تعاقب کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
اس تعاقب کے ہیرو کون تھے؟ اس شراکت میں اظہر علی کے ساتھ دوسرے اینڈ پر کون تھا؟
سری لنکا کا وائٹ واش، پاکستان کے خلاف دبئی ٹیسٹ میں 68 رنز سے فتح
یاسر شاہ مسلسل پانچ ٹیسٹ میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے سپنر
یاسر شاہ کو سانس لینے دیں
‘کھلاڑیوں پر بھروسہ ہے یہی دبئی ٹیسٹ جتوائیں گے’
تمیم اقبال سے جب کرک انفو کے محمد اعصام نے ایک بار پوچھا کہ سالہا سال گزرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کی کرکٹ میں تسلسل کیوں نہیں آ سکا تو انھوں نے بتایا کہ جب 250 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آپ کے 50 رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ ہو جائیں اور آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہاں سے کیسے جیتنا ہے تو آپ وکٹ پر جا کر پریشانی کی منظر کشی ہی کر پائیں گے، اس کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
چیمپیئن ٹیم وہ ہوتی ہے جس کو یہ یقین ہو کہ وہ کسی بھی صورت حال سے میچ نکال لے گی۔
سوال یہ ہے کہ یہ یقین آتا کہاں سے ہے اور اس یقین کی عملی تعبیر کیسے ممکن ہوتی ہے؟
پاکستان کے تناظر میں یقین کا یہ بحران اس لیے بھی سنگین تر ہوتا جا رہا ہے کہ ابھی پاکستان کو ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا میس اٹھائے بمشکل ایک ہی سال ہوا ہے اور اس ایک سال کے دوران پاکستان نو ٹیسٹ ہار چکا ہے۔ ان نو میں سے کم از کم پانچ میچ ایسے تھے جہاں پاکستان فتح کے دہانے پر پہنچ کر اچانک پھسل گیا اور جیت مخالف ٹیم کی جھولی میں پھینک آیا۔
آج پاکستان یو اے ای میں پہلی بار کوئی ٹیسٹ سیریز ہارا ہے
لیکن ایک ریکارڈ پھر بھی ایسا تھا جو اس تمام شکست و ریخت کے باوجود کسی نہ کسی طرح محفوظ رہا۔ مگر افسوس کہ آج وہ ریکارڈ بھی قصۂ پارینہ ہوا چاہتا ہے۔ آج پاکستان یو اے ای میں پہلی بار کوئی ٹیسٹ سیریز ہارا ہے۔
سوال مگر یہ ہے کہ کیا یہ پاکستان کے سنہرے دور کے زوال کا نقطۂ کمال ہے یا نقطۂ آغاز؟
بادی النظر میں دیکھا جائے تو جب کوئی بھی نیا کپتان نئی ٹیم کے ساتھ میدان میں اترتا ہے تو راتوں رات سرسوں نہیں جم جاتی۔ ہار جیت کے ایک پورے سائیکل سے گزر کر ٹیم بنتی ہے۔
سری لنکا کو سنگا کارا اور جے وردھنے کے جانے کے بعد اسی سائیکل میں سے بارہا گزرنا پڑا تب کہیں جا کر یہ سمجھ آئی کہ ٹیم کیا ہونی چاہیے، کپتان کیسا ہونا چاہیے اور کوچ کس کو ہونا چاہیے۔؟
مگر سری لنکا کی مثال اور پاکستان کی صورتِ حال میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ سنگا کارا اور جے وردھنے خالصتاً اپنی مرضی سے گئے تھے۔ مصباح اور یونس کے معاملے میں قصہ ذرا مختلف ہے۔ چلیں مصباح کی تو عمر اور کارکردگی پر بحث کی گنجائش بنتی ہے مگر یونس کے قصے میں بلا تردد یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی سی بی نے ان کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔
یونس خان پاکستان کے پہلے بلے باز ہیں جنھوں نے ٹیسٹ میں 10 ہزار رنز سکور کیے ہیں
یونس خان کو گھر بھیجنے کی کیا جلدی تھی؟ مان لیا کہ انضمام نوجوان ٹیم بنانا چاہتے تھے مگر اس بات کا کوئی جواب کسی کے پاس ہے کہ نوجوانوں کی ٹیم میں سب سے زیادہ فٹ اور کامیاب ترین بیٹسمین یونس خان ہی آپ کے عزائم میں رکاوٹ کیسے بن گیا؟
چھ سال یہ بحث ہوتی رہی کہ یونس خان ون ڈے کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔ مگر ایک بنیادی نکتہ مبحثین کی نظروں سے اوجھل رہا کہ کرکٹ کے تیز ترین فارمیٹ میں پاکستان کو ورلڈ کپ جتوانے والا کپتان جارحانہ کرکٹ کے لیے غیر موزوں کیسے ہو گیا؟
اسی یونس خان کو پی ایس ایل کی ڈرافٹنگ میں جب کسی نے درخور اعتنا نہ سمجھا تو پشاور نے اسے بیٹنگ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے اپنے ساتھ لیا اور پھر پشاور بھی ٹائٹل جیت گیا۔
انگلینڈ کی اس بہتری میں کلیدی کردار اینڈریو سٹراس نامی ایک شخص کا ہے جو انگلینڈ کا سابق ٹیسٹ کپتان ہے اور فی الوقت ای سی بی کے لیے ڈائریکٹر کا کردار ادا کر رہا ہے
کیا انگلینڈ کی ٹیم پچھلے دو سال سے ہر فارمیٹ میں مسلسل بہتری کی جانب گامزن نہیں ہے؟
تھنک ٹینک سے التماس ہے کہ ذرا گوگل کر کے دیکھیے کہ انگلینڈ کی کایا کیسے ممکن ہوئی۔ اگر آپ کی تحقیق خیر و خوبی پر منتج ہوئی تو سمجھ جائیں گے کہ انگلینڈ کی اس بہتری میں کلیدی کردار اینڈریو سٹراس نامی ایک شخص کا ہے جو انگلینڈ کا سابق ٹیسٹ کپتان ہے اور فی الوقت ای سی بی کے لیے ڈائریکٹر کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہاں یہ عالم ہے کہ جب درجنوں سابق کرکٹرز اور اپنے ہی کپتان مصباح کے کہنے پر یونس خان صرف اپنے فیصلے پر غور کرنے کا اشارہ ہی دیتے ہیں تو اودھم مچا دیا جاتا ہے حالانکہ ضرورت بھی پاکستان کو تھی، یونس کو نہیں۔یوں سالہاسال کی ناراضگی کے باوجود جب یونس خان اچھے انداز میں رخصت ہونا چاہتے تھے تو انھیں یہ موقع بھی نہیں دیا گیا۔
اور پھر جب مکی آرتھر عثمان سمیع الدین سے یہ کہتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے مسائل نے ان کی راتوں کی نیند اڑا رکھی ہے تو سمجھ یہ نہیں آتی کہ جن کو مسائل کا حل نکالنا ہے اگر وہی بے خواب راتوں کا شکار ہیں تو سوالوں کے جواب کون دے گا۔؟
مکی آرتھر سے درخواست ہے کہ اگر آپ کے سوال ہر طرف سے تشنہ جواب لوٹ رہے ہیں تو یونس خان سے پوچھنے میں کیا حرج ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں