گزشتہ برس حج انتظامات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امورکے اجلاس کے دوران گزشتہ برس حج انتطامات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں عبدالغفارڈوگرکی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت مذہبی امورکا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے دوران وزارت مذہبی امورکے اعلیٰ حکام کی جانب سے بریفنگ کے دوران کمیٹی نے استفسار کیا کہ رواں برس سرکاری اخراجات میں 10 ہزارروپے فی کس کا اضافہ کیوں کیا گیا ہے، جس پرایڈیشنل سیکریٹری حج نے بتایا کہ ملک کے جنوبی حصے کے لیے 2 لاکھ 70 ہزار جب کہ شمالی حصے کے لیے 2 لاکھ 80 ہزار کا پیکج رکھا گیا ہے، توسیع کعبہ کی وجہ سے کم کیا گیا 20 فیصد کوٹا بحال کردیا گیا ہے، اس سال سعودی حکومت عمارتوں میں ہی عازمین کے سامان کی کلیئرنس دے گی، حجاج کو ٹرین اورایئر کنڈیشنڈ بسوں کی سہولت فراہم کی جائے گی، منیٰ میں میٹرس ڈبل کروا دیا گیا ہے جب کہ خیموں میں ایئرکولرکا انتظام کروادیا ہے۔ عازمین حج کو3 وقت کا کھانا اوربہترسہولیات دے رہے ہیں، کھانے کا معیارمزید بہترکیا گیا ہے اس کے علاوہ انہیں دن میں 3 مرتبہ چائے ملے گی۔
حکام کی بریفنگ پر چئیرمین کمیٹی ملک عبدالغفارڈوگرنے کہا کہ وزارت مذبی امور کی جانب سے پالیسی بنائی جاچکی ہے، عمارتیں کرائے پرلے لی گئیں اورمینیو بھی بنا لیا گیا تو اب بحث کے لیے کیا رہ گیا ہے۔ اب ہمارے بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے، ہم سے اب صرف دستخط کروانا ہیں، پالیسی بنانے سے قبل نہ مشاورت ہوتی ہے نہ کمیٹی کا اجلاس بلایا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی نے کہا کہ میں نے 6 حج کئے اور ہر بار ائیر کولر خراب ہی ملے، اتنی گرمی میں حاجی سے اترنا چڑھنا مشکل ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں