کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام، متاثرہ ارکان اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات

نیوزویوز(اسلام آبا د) وفاقی وزیر ریاض پیر زادہ کی قیادت میں جمعہ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقا ت کی جس میں متاثرہ ارکان پارلیمنٹ نے معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھاتے ہوئے مبینہ خط پر احتجاج کیا ‘ وزیراعظم نے اراکین پارلیمان اور ڈی جی آئی بی کو آمنے سامنے بٹھا دیا‘ا سپیکر سردار ایاز صادق بھی موجود تھے‘وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ ن کے 37اراکین پارلیمنٹ کے داعش اور دیگر کالعدم تنظیموں سے روابط سے متعلق انٹیلی جنس بیورو کے مبینہ خط کی باضابطہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ آئی بی کو وزیراعظم آفس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی خط نہیں ملا‘رپورٹ جعلی ہے۔
دوسری طرف ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان کا کہنا ہے کہ 37 اراکین سے متعلق آئی بی کا خط قطعی جعلی ہے اور آئی بی میں سے کس نے یہ خط میڈیا کو دیا اس کی داخلی سطح پر تحقیقات بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے طلب کرنے پر پہلے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی ‘وہاں پرفہرست میں شامل اراکین قومی اسمبلی اور بعض وزراءبھی موجود تھے۔
اسپیکر کے پاس ان اراکین نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ ایسی فہرست ان کا سیاسی کیریئر تباہ کرنے کی کوشش ہے اور یہ کسی صورت انہیں قبول نہیں کیونکہ ان کا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر آئی بی نے انہیں مطمئن نہ کیا تو وہ ان کے خلاف تحریک استحقاق لائیں گے۔ ذرائع کے مطابق بعد ازاں اسپیکر ان اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ وزیراعظم کے پاس گئے۔اراکین میں وفاقی وزراءریاض حسین پیرزادہ ، اویس لغاری ، ارشد لغاری، سکندر بوسن، بلیغ الرحمن، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی ودیگر اراکین موجود تھے۔ متاثرہ اراکین نے فہرست کو سازش قرار دیا اور کہا کہ جان بوجھ کراس میں جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کے صرف ن لیگ کے اراکین پارلیمنٹ کے نام شامل کئے گئے ہیں اگران میں سے کسی کے کالعدم تنظیم کے ساتھ تعلقات تھے تو وزیراعظم کوان کے وزیر بننے سے پہلے آئی بی جو رپورٹ دیتی ہے اس میں انہوں نے انہیں کیوں نہیں بتایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں