پی آئی اے کی نیو یارک پرازیں بند اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ملیکیتی ائیر بلیو کی پروازیں شروع

نیوزویوز(لاہور) وزیراعظم شاہد خاقان پی ائی اے جیسے اہم وفاقی ادارے کی تباہی کے ذمہ دار رہ چکے ہیں۔ 1997-99 میں بطور چئیرمین پی آئی اے انہوں نے ایسے افراد کو ترقیاں دیں جنہوں نے پی آئی اے کے ملکیتی روز ویلٹ ہوٹل نیو یارک، پیرس اور ریاض کے ہوٹلز کو خسارے میں مگر پی آئی اے کو فائدے میں دکھایا۔ ان کی 1997-99 کی پالیسیوں کے نتیجے میں پی آئی اے ایک پرافٹ والے ادارے سے ایک نقصان والے ادارے میں تمدیل ہو گیا۔ کوئی بھی شفافیت اور احتساب کو سنجیدگی سے نہیں لیتا کیونکہ سب کرپشن کے راست سے ہی سیاست میں وارد ہوتے ہیں۔پی آئی اے کی نئی انتظامیہ جس کا پی آئی اے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں کسی بھی فضائی کمپنی کو چلانے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتی جس کی وجہ سے پی آئی اے مزید مالی تباہ حالی کا شکار ہو رہی ہے۔ سادہ الفاظ میں اگر دیکھا جائے تو نئی انتظامیہ خصوصاً مسٹر ایڈوائزر کے آنے کے بعد پی آئی اے کا خسارہ ہی چانکا دینے کے لئے کافی ہے۔ اب تو پی آئی اے کی واشنگٹن فلائٹس بھی کم ہو کر ایک ہفتے میں صرف سات رہ گئیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پی آئی اے کے فنانشل معاملات چلانے والوں نے پی آئی اے کے تمام لون اور ادائیگیاں پی آئی اے کی فلائٹ ٹکٹس میں شامل کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے پی آئی اے کی پروازیں خسارے کا شکار ہیں۔ یہ صرف اور صرف کمزور فنانشل پلاننگ کا نتیجہ ہے جس کے بنیادی طور پر ذمہ دار پی آئی اے کے ہیومن ریسورس، فنانس اور انجنئرنگ ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پی آئی اے کی نیو یارک کی فلائیٹس کو خسارے میں دکھا کر بند کر دیا جائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے نیو یارک اور واشنگٹن جانے والے مسافروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اعداد و شمار اس کے حقیقت کے گواہ ہیں۔ مقصد صاف اور واضھ ہے کہ پی آئی اے کا ملکیتی روزویلٹ ہوٹل بکوا دیا جائے۔
اس سارے کھیل کا اصل کردار پی آئی اے کا ایم ڈی انویسٹمنٹ نجیب سمیع ہے۔ خبر کے آخر میں سب سے اہم بات شاہد خاقان عباسی کی ملکیتی ائیر بلیو پاکستان سے نیویارک فلائٹس شروع کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں