پاکستان کی صالمیت کے خلاف کام کرنے والوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی.وزیر دفاع

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرانے والے، پاکستانی سالمیت کے خلاف کام کرنے والے چاہے اندرونی عناصر ہوں یا بیرونی ان کے ساتھ رعایت نہیں ہوگی۔

سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیردفاع نے کہا کہ کل بھوشن کو تمام قوانین مدنظر رکھتے ہوئے موت کی سزا سنائی گئی،اس پر ساڑھے تین ماہ سے مقدمہ چل رہا تھا، مجرم 60 دن کے اندر اپیل کا حق رکھتا یے،کلبھوشن کے معاملے پرتمام قوائد اورقانونی ضابطے پورے کیے گئے

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بھارتی نیوی افسر کل بھوشن پاکستان سے گرفتار ہوا، اس کے پاکستان میں لوگوں کے ساتھ رابطے بھی تھے،ریاست کے ہر کونے میں پاکستان کا کنٹرول ہے، دو لاکھ جوان مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، 80ہزار جوان ایل او سی پر تعینات ہیں۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے این او سی کے لیے اپلائی نہیں کیا،سابق فوجی افسر 2سال بعد کہیں جانا چاہے تو این او سی کے لیے اپلائی کر سکتا ہے،انہیں جب این اوسی دیا جائے گا تو ہاؤس کو بتادیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مئی میں سعودی عرب میں اجلاس میں اسلامی اتحاد کے خدوخال واضح ہوں گے،ایران کے ساتھ صدیوں پرانے تعلقات ہیں،اس کے تحفظات دور کررہے ہیں اور کریں گے ۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان ایک فرقے، فقہ یا مذہب کا نہیں، پاکستانیوں کا ملک ہے،ہم کسی مسلک یا فرقے کے اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے،سعودی عرب کی سیکیورٹی ہمارے دل کے قریب ہے، جب سعودی اتحاد کے خدوخال واضح ہوں گے توپارلیمنٹ میں آکر بیان کروں گا،کسی بھی ریاست یا اسلامی ملک کے خلاف کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے، اسلامی ممالک کا اتحاد خالصتا دہشت گردی کے خلاف ہے
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی گجرات میں منصوبہ بندی کے تحت قتل عام کیا گیا،مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز منصوبہ بندی کے ےحت قتل عام کررہی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں