پاناما جے آئی ٹی میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں. اسحاق ڈار

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر جے آئی ٹی قانون کے مطابق بنے گی اور اس میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں 6 اداروں کے افسران شامل ہوں گے جب کہ اسٹیٹ بینک اور ایس ای ایس پی وزارت خزانہ کے ماتحت ادارے نہیں ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکا کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائز مک ماسٹر سے ملاقات مفید رہی اور مک ماسٹر نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ مک ماسٹر کے ساتھ دفاع، مسئلہ کشمیر، بھارت اور افغانستان کے ساتھ مسائل پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا، سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائیاں جاری ہیں
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، ضرب عضب کی کامیابی کے بعد آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا، جنرل (ر) راحیل شریف کی مسلم ممالک کے فوجی اتحادکےسربراہ کی حیثیت سے تعیناتی میں کوئی ابہام نہیں، وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں پاکستان کی کرنسی مستحکم رہی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں صرف 5 فیصد گراوٹ آئی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر سے بات چیت مفید رہی، اب آئی ایم ایف کے مزید پروگرام کی ضرورت نہیں جب کہ بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش مند ہیں۔ آئندہ بجٹ میں کوئی نئے ٹیکس نہیں لگانے جا رہے، بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں گے۔
ڈان لیکس کے حوالے سے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس پر تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف کو پیش کی جا چکی، رپورٹ کی سفارشات پرعمل درآمد کیا جائے گا، رپورٹ کیسے لیک ہوئی اس پر انکوائری ہونی چاہیئے، ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں طارق فاطمی کو ہٹانے کی سفارش نہیں کی گئی بلکہ طارق فاطمی کےعہدے میں تبدیلی پر بات ہو رہی ہے تاہم ان کی تبدیلی کا فیصلہ انتظامی ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں