ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شور کمپنی بنائی.عمران خان

عمران خان نے نااہلی کیس میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں کہا ہے کہ لندن میں فلیٹ کی خریداری کے بعد انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ کیپیٹل گین ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شور کمپنی بنالیں اور نیازی سروسز لمیٹڈ کا صرف ایک فلیٹ ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان نے سپریم کورٹ کے حکم پر نااہلی کیس میں 35صفحات پر مشتمل جواب جمع کرا دیا ہے جس میں جواب میں تین صفحات پر مشتمل ان کا بیان حلفی بھی شامل ہے۔ اپنے جواب میں انہوں نے بطور پارٹی چیرمین پی ٹی آئی کے تمام کھاتوں کی تصدیق کی ہے۔
اپنے تحریری بیان میں عمران خان نے کہا ہے کہ انہوں نے 1971 سے 1992 تک کرکٹ بطور پیشہ کھیلی، کرکٹ سے حاصل رقم بذریعہ چیک وصول کی اور اس پر تمام ٹیکس بھی ادا کئے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کمنٹری اور لیکچرز سے بھی رائلٹی لی۔ انہوں نے 2002 سے آج تک تمام ٹیکس ریٹرنز اور اثاثہ جات ظاہر کئے اور کبھی متعلقہ اتھارٹیز نے ان پر اعتراض نہیں اٹھایا۔

عمران خان نے کہا کہ لندن میں کرکٹ سے حاصل آمدنی سے ایک لاکھ 17 ہزار پاؤنڈ مالیت کا فلیٹ خریدا،فلیٹ کی خریداری کے بعد قانونی ماہرین نے کیپیٹل گین ٹیکس سے بچنے کے لئے انہیں آف شور کمپنیاں بنانے کا مشورہ دیا اور نیازی سروسز لمیٹڈ کا صرف ایک فلیٹ ہے، فلیٹ کی فروخت کے وقت وہ لندن میں مقیم نہیں تھے، اس سلسلے میں رقوم کی منتقلی بارکلیز بینک کے ذریعے کی گئی، بنی گالا میں اراضی اہلیہ اور بچوں کے لئے خریدی تھی، اسلامی قوانین کے مطابق طلاق کے بعد سابق میاں بیوی کا ایک دوسرے کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہوتا لیکن برطانوی قانون کے تحت دونوں ایک دوسرے کی جائیداد میں برابر کے شریک ہوتے ہیں لیکن طلاق کے بعد جمائما اپنے حصے سے دستبردار ہوگئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں