وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے عہدہ سنبھالتے ہی آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ پر چڑھائی کر دی

سندھ کے وزیر داخلہ کا منصب سنبھالتے ہی سہیل انور سیال نے آئی جی سندھ پر چڑھائی کر دی اورکہا کہ آئی جی سندھ میرے ماتحت کے بھی ماتحت ہیں اور وہ پولیس کے معاملات مجھ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں، انہوں نے بہت بچکانہ حرکت کی ہے۔
وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال کی زیر صدارت پولیس افسروں کا اجلاس ہوا جس میں افسروں کو آؤٹ اسٹیشن کی پیشگی اجازت لینے پروزیر داخلہ برہم ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی میٹنگ میں جانے کے لیے پولیس افسران کو آئی جی سے اجازت لینے کی ہدایت بچکانہ حرکت ہے۔آئی جی سندھ پولیس کے معاملات مجھ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں، پولیس ایکٹ کے تحت انسپکٹر جنرل پولیس ہوم سیکریٹری کے ماتحت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں پولیس ایکٹ کےتحت پولیس کام کررہی ہے، میرے پاس 20 سے زیادہ 20 گریڈ کے افسر ہیں۔
انہوں نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سےسوال کیا کہ آفتاب پٹھان، ثنا اللہ عباسی اور خادم بھٹی تو شہر میں ہی موجود ہیں ، باہر گئے ہی نہیں تو اجازت کیسی ؟ بتائيں وہ آؤٹ آف اسٹیشن گئے تو کیا انہوں نے ہوم سیکریٹری سے اجازت لی؟
وزیر داخلہ نے کہا کہ میں اور میری پارٹی عدالت کا احترام کرتی ہے، رمضان میں سیکیورٹی،امن و امان، ٹریفک کی صورتحال اولین ترجیح ہے،آئی جی سندھ کی آمد سے پہلے امن و امان کی صورتحال بہتر تھی،آئی جی صاحب کے آنے سے قبل میرٹ پر بھرتیاں یقینی بنائی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھ میں خرابی ہوتی تو پولیس ڈپارٹمنٹ اس جگہ نہ ہوتا جہاں آج کھڑا ہے،میں نے اپنے محکمےمیں کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ مجھ پر بلنڈر کاالزام لگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں