وزیر اعلی پنجاب کی قیادت میں اجلاس

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس۔
اڑھائی گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں پنجاب سکولز ریفارمز روڈ میپ پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف اور روڈمیپ ٹیم کا پروگرام پر ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار۔
وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کیلئے تاریخ ساز فنڈز مختص کئے ہیں۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شعبہ تعلیم میں مجموعی طور پر 345 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
یہ رواں مالی سال کے مختص کردہ فنڈز سے تقریباً 33 ارب روپے زیادہ ہے۔
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کی تاریخ میں شعبہ تعلیم کیلئے پہلی بار وسائل میں اتنا زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبے میں فروغ تعلیم کیلئے بے پناہ محنت سے کام کیا گیا.
اہداف کے حصول کیلئے ہمیں محنت اور عزم کے ساتھ آگے کا سفر طے کرنا ہے۔
گزشتہ 3 ماہ کے دوران روڈ میپ پروگرام کے تحت اہداف کے حصول کے حوالے سے بہترین انداز میں پیش رفت کی گئی ہے۔
وزیر اعلی نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کم کارکردگی دکھانے والے 4300 سکولوں کو آؤٹ سورس کیا ہے۔
آؤٹ سورسنگ کے باعث ان سکولوں میں بچوں کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے اور تعلیم کا معیار بھی بڑھا ہے۔
وزیراعلیٰ کی مزید 10 ہزار سکول آؤٹ سورس کرنے کا پلان مرتب کرنے کی ہدایت۔
اس ضمن میں اقدامات کرکے جلد حتمی پلان پیش کیا جائے۔
2018 تک سکولوں میں بچوں اور بچیوں کی شرح داخلہ کے ہدف کا حصول ہر صورت یقینی بنانا ہے۔
سکولوں میں شرح داخلہ میں اضافہ کیلئے محنت سے کام کرنا ہوگا۔
سکولوں میں بچوں کی شرح داخلہ میں اضافہ کیلئے کمیونٹی سکولز کھولنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے.
زیور تعلیم پروگرام سے قوم کی 4 لاکھ 62 ہزار بیٹیاں تعلیم سے مستفید ہو رہی ہیں۔
آئندہ مالی سال میں اس پروگرام کیلئے 6 ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ
’’خادم پنجاب سکول پروگرام‘‘ کے تحت سکولوں میں ہزاروں اضافی کمرے تعمیر کئے جا رہے ہیں۔
اس منصوبے کیلئے 6 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔
مجموعی طور پر صوبے کے پرائمری سکولوں میں 36 ہزار نئے کلاس روم تعمیر کئے جائیں گے۔
اس اقدام سے سکولوں میں شرح داخلہ میں اضافہ ہوگا۔
وزیر اعلی نے اس مقع پر ہدایت کی کہ خستہ حال عمارتوں کی تعمیر و مرمت کا کام جون 2017 تک مکمل کیا جائے.ووچر سکیم کے اقدام نے صوبے میں تعلیمی منظرنامہ بدل کر رکھ دیا ہے۔
وزیراعلیٰ کی محکمہ سکولز ایجوکیشن میں خالی آسامیوں کو فوری پر کرنے کی ہدایت۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے والدین کے فیڈبیک کیلئے بنائی جانے والی ہاٹ لائن کا دائرہ کار 36 اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔

شہباز شریف کا یک بھی کہنا تھا کہ اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ٹیچرز کوالٹی کو باقاعدگی سے چیک کرنے کا میکانزم ترتیب دیا جا رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں