وزیر اعظم فائنل اتھارٹی ہیں وہ جو حکم دیں اس پر عمل ہونا چاہیے. ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ہماری پریس ریلیز کوبنیاد بنا کرفوج اورحکومت کو آمنےسامنے کھڑا کردیا گیا تاہم پاک فوج جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا دیگر پاکستانی کرتے ہیں۔
ڈان لیکس کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ نیوز لیکس کا حتمی نوٹی فکیشن وزارت داخلہ سے جاری ہونا تھا تاہم جو نوٹی فکیشن جاری کیا گیا وہ مکمل نہیں تھا جس پر آئی ایس پی آر کی جانب سے ٹوئٹ کے ذریعے پریس ریلیز جاری کی گئی مگر وہ ٹوئٹ کسی حکومتی شخصیت یا ادارے کے خلاف نہیں تھی بلکہ نوٹی فکیشن کے نامکمل ہونے پر کی گئی تھی۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہماری پریس ریلیز کوبنیاد بنا کرفوج اورحکومت کو آمنےسامنے کھڑا کردیا گیا اور ایسے حالات نہیں ہونے چاہئے تھے، تاہم جو کچھ ہوا وہ افسوس ناک ہے۔ نیوز لیکس سے متعلق معاملات طے پاگئے
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آج وزارت داخلہ نے پیرا 18 کے مطابق مکمل آرڈر کردیا جس پر ہم حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے نا صرف مکمل حقائق سامنے لائے بلکہ غلط فہمیاں بھی دور کیں ، پاکستان فوج ریاست کا مضبوط ادارہ ہے اور ادارے کے حیثیت سے دیگر اداروں کے ساتھ جمہوریت کے لیے ملکر کام کریں گے جب کہ پاک فوج جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا دیگر پاکستانی کرتے ہیں اور آئین کی پاسداری کرتے ہوئے جو بھی جمہوریت کے لیے بہتر ہوگا وہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے انکوائری میں جو ذمے دار تھے ان کے نام دے دیے اور انکوائری بورڈ میں رکن نے سفارشات وزیر اعظم کو بھجوائیں، وزیراعظم فائنل
اتھارٹی ہیں وہ جو حکم دیں اس پر من وعن عمل ہونا چاہیے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں