نہال ہاشمی نے انتہائی غیرمناسب باتیں کیں . آصف کرمانی

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر اور ترجمان (ن) لیگ آصف کرمانی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے 2014 سے گالی اور بداخلاقی کو فروغ دیا اور اداروں کی تذلیل کی۔
جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ترجمان آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے عدلیہ کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے لیے لانگ مارچ کیا، نہال ہاشمی نے انتہائی غیرمناسب باتیں کیں اور جذبات میں بہہ گئے، نہال ہاشمی سے جو غلطی ہوئی اس پر پارٹی اور قائد نے اپنا کردار ادا کردیا ہے،ان کی وڈیو آنے پر فوراً طلب کیا گیا ، ان سے پارٹی کا عہدہ لیا جارہا ہے اور 3 دن میں جواب طلب کیا گیا ہے۔
آصف کرمانی نے کہا کہ ہم جھک کر عدلیہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں، ہم نے ہمیشہ عدالتوں کے فیصلے کو قبول کیا اس وقت بھی وزیراعظم کے بیٹوں سمیت مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جسے بلائے گی وہ حاضر ہو جائے گا لیکن تفتیش کرنے والے کے حقوق کی طرح زیرتفتیش فرد کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ جے آئی ٹی اور قطری شہزادے کے درمیان ہے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے قطری شہزادے سے رابطہ کیا ہے اور انہیں کچھ آپشنز دیے ہیں، ہم نے اپنے تحفظات سپریم کورٹ میں پیش کردیے ہیں عدالت ان کو مدنظر رکھے گی اور امید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔
ترجمان وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان نے جو زبان عدلیہ کے بارے میں استعمال کی اس پر دل دکھتا ہے، عمران خان نے 2014 سے گالی اور بداخلاقی کو فروغ دیا اور اداروں کی ذلیل کی عدالتوں نے عمران خان کو اشتہاری قرار دیا ہے عدالتیں ہی اشتہاریوں کو بیلف بھیج کر گرفتار کراتی ہیں۔
دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اداروں کےاحترام پر یقین رکھتی ہے ہمارے بارے میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ (ن) لیگ اداروں کی تضحیک کرتی ہے لیکن ہم تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں، ہم نے پہلے مشاہد اللہ خان اور اب نہال ہاشمی کی صورت اداروں کا احترام ثابت کیا، حکومتی اداروں کی تذلیل اوروں نے کی اور ہم نے پہلے دن سے عدالتوں کے سامنے سر جھکایا، ہماراحق اور ہماری بات اپنی جگہ موجود ہے، جہاںٕ زیادتی ہورہی ہے ہم اپنا حق مانگنے پر مجبور ہیں۔
رہنما مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے پاناما معاملے پر کمیشن بنانے کی بات کی، جس پر تحریک انصاف کے علاوہ تمام جماعتیں متفق تھیں، پاناما کے موجودہ بنچ نے جے آئی ٹی بنائی تو بھی ہم پیش ہوتے رہے لیکن ہم پر الزام لگایا گیا کہ جےآئی ٹی کو متنازع بناناچاہتےہیں، ہم نے ہمارےتحفظات بیان کیے اور آئندہ بھی کریں گے۔
دانیال عزیز نے کہا کہ 2014 سے تمام حکومتی اداروں کی تضحیک کا عمل جاری ہے، پولیس اہلکاروں کو’اوئے‘آئی جی اور’اوئے‘ایس پی تک کہا گیا، اور کہا گیا کہ اوئے ایس پی تمہیں نہیں چھوڑوں گا، دھرنے کےدوران پولیس اہلکاروں کے بازو اور ٹانگیں توڑی گئیں اور پولیس پرتشدد کا مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں چل رہاہے اور عدالت نے عمران خان کو اشتہاری قراردے رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں