نورین لغاری کی داعش میں شمولیت سے متعلق اہم ا نکشاف

لاہور کی پنجاب ہائوسنگ سوسائٹی سے گرفتار ہونے والی حیدر آبادکی لڑکی نورین لغاری کے بھائی نے مطالبہ کیا ہے کی حقائق کو سامنے لایا جائے.
نورین کے بھائی افضل لغاری کا کہنا ہے کہ اس کی بہن نورین لغاری کاکسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہیں، اسے اغوا کیا گیا تھا.

رپورٹ کے مطابق نورین لغاری کا مارے گئے دہشت گرد علی طارق سے سوشل میڈیا پر رابطہ ہوا ،بعدازاں دونوں نے نکاح کرلیا.نورین کی داعش میں شمولیت کےبارے میں بھی اہم انکشافات سامنے ائے ہیں.اطلاعات کے مطابق نورین لغاری دو ماہ شام میں رہنے کے بعد 6 ماہ قبل واپس علی طارق کے پاس آئی تھی.
دوسری طرف لیاقت میڈ یکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نوشاد شیخ نے بتا یا ہے کہ جس دن نورین لغاری فرار ہوئیں ،اس دن وہ بس پر یونیورسٹی پہنچی اور کلاس میں بھی آئی لیکن پھر وہ یونیورسٹی سے فرار ہو گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اطلاع ملی کہ نورین بس میں بیٹھ کر لاہور چلی گئی ،ہم نے ایجنسیوں کو رپورٹ کر رکھی تھی کہ نورین لاپتہ ہے ۔
حیدر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوشاد شیخ نے کہا کہ نورین اسلامی رجحان رکھنے والی بچی تھی ،وہ بہت سادہ تھی اور الگ تھلگ رہتی تھی ،نورین کی پانچ سہلیاں بھی تھیں جن میں سے دو مسلمان جبکہ 3ہندو برادری سے تعلق رکھتی تھیں ۔انہوں بتا یا کہ نورین لغاری پڑھائی میں بھی اچھی تھی اور اس کے نتائج بھی ٹھیک رہے ۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور بھی لڑکیاں نورین لغاری کی طرح مذہبی خیالات رکھتی ہیں ،یونیورسٹی کی 50فیصد طالبات نقاب پہنتی ہیں ،ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی بچہ انتہا پسندی کی طرف چلا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے نورین لغاری سوشل میڈ یا پر کسی سے رابطے میں رہی ہو ،نورین کسی کارروائی میں شریک ہوئی تو یونیورسٹی کا تعلق نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں