نواز شریف نے اداروں سے ٹکراﺅ کی ٹھان لی ہے ،شیری رحمان

نیوزویوز:(اسلام آباد) نائب صدر پی پی پی پی سینیٹر شیری رحمان نے نواز شریف کی تقریر کہ ردعمل میں کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی آج کی تقریر سے لگتا ہے انہوں نے اداروں سے ٹکراﺅ کی ٹھان لی ہے ، وہ جمہوریت کی نہی اپنی ذاتی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ایک عدالتی معاملے کو نواز شریف نے سیاسی معاملہ بنا کر پورے ملک کو یرغمال بنادیا ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ حیرانگی کی بات ہے کہ جس پارٹی نے ساری زندگی بھٹو خاندان کی مخالفت میں گزاری وہ پارٹی اب شھید ذوالفقار علی بھٹو اور شھید بینظیر بھٹو کا حوالہ اور مثال دیتی ہے۔ یے لوگ اب خود کا بھٹو خاندان سے موازنہ کرتے ہیں جو سیاسی اور اخلاقی طور پر بلکل جائز اور درست نہیں۔ شھید بھٹو اور بی بی شھید کی زندگی اور سیاست کی مثالیں دنیا دیتی ہے، انہوں نے ملک اور عوام کے خاطر اپنی جانیں دے دی۔ شریف خاندان صرف احتساب کا سامنہ کر رہا ہے ان کے خلاف کوئی سازش نہی ہو رہی۔ شھید بھٹو اور بی بی شھید نے اقتدار اور طاقت کے لئے قربانیاں نہیں دی، دوسری طرف نواز شریف نے جمہوریت کو نقصان دینے کہ لئے سیاسی جنگ شروع کر دی ہے۔ ریاستی اداروں اور جمہوریت کے لئے شریف خاندان کے رویہ پریشان کن ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ شہباز شریف نے آج بھی ان کو لڑائی اور ٹکراﺅ کی سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی طرز سیاست سے ان کے اپنے رہنماءطمئن نہیں ہیں۔ نواز شریف بہت کنفیوزن کا شکار ہیں ، ان کے فیصلے بہت جلد تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ اپنی سینئر قیادت سے مشورہ لے نہ کہ نئے اور غیرتجربہ کار مشیروں سے۔

نواز شریف کی گرینڈ نیشنل ڈائلاگ کی تجویز پر شیری رحمان نے کہا کہ نواز شریف نے میثاق جمہوریت کی پاسداری نہیں کی ، گرینڈ نیشنل ڈائلاگ کی بات کیسے کر رہے ہیں۔ پہلے میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی کا حساب دیں پھر گرینڈ نیشنل ڈائلاگ کی بات ہوگی۔ مسلم لیگ ن نے پی پی پی حکومت کے خلاف ہر روز نئی سازشیں کی۔ یوسف رضا گیلانی کو گھر بھجنے ولاکون تھا؟

انتخابی اصلاحات بل کے حوالے سے شیری رحمان نے کہا کہ صرف نواز شریف کو پارٹی صدر بنانے کے لیے قانون میں ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کا فائدہ اس وقت صرف نواز شریف کو ہوئاہے۔ ہو سکتا ہے چند دنوں بعد ایک اور پارٹی بھی اس ترمیم سے فائدہ اٹھائے۔ دیکھا جائے تو اس ترمیم میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے حکومت کا ساتھ دیا۔ انتخابی اصلاحات بل میں پی پی پی کی طرف سے پیش کردا ترامیم حکومتی سازش کی وجہ سے مسترد ہوئیں۔ پی پی پی نے حکومتی بل کو مسترد کرنے کی بھرپور کوشش کی پر نمبر گیم کی وجہ سے ہم ہار گئے۔ ہاﺅس آف شریف کو بکھرے سے بچانے کہ لئے اس بل کو عجلت میں پاس کرایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں