ناکام خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی

آج پاکستان کو دنیا بھر کے کسی بھی اتحاد میں ’’غریب رشتے دار‘‘کا درجہ دے دیا گیا ہے، کوئی محفل ہویا کہیں کوئی اتحاد جنم لے رہا ہویا کہیں نئے بلاک بن رہے ہوں یا کہیں اچھائی برائی کے کام کا آغاز دنیا بھر کی ’’محفلوں‘‘ میں پاکستان ایک غریب رشتہ دار بن کر رہ گیا ہے جس کی موجودگی ہونے یا نہ ہونے کے برابر سمجھی جاتی ہے۔۔۔ نہ اُس کی کسی بات کو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی وہ کسی فورم پر اپنی بات میں وزن رکھتا ہے۔۔۔خواہ وہ کتنی بھی سیانی بات کیوں نہ کر دے لوگوں کے اُس کے بارے میں ذہن بن جاتے ہیں کہ یہ غریب آدمی جو اپنی معاشی فکر میں ہمیشہ ڈوبا رہتا ہے یہ کام کی بات کر ہی نہیں سکتا۔۔۔ اور یہ بھی تو عام بات ہے اور تلخ حقیقت ہے کہ جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے (جس کے گھر کی معاشی صورت حال اچھی ہو وہاں کے جھلے بھی سیانے ہوتے ہیں) صدیوں سے یہ معقولہ زد عام ہے اور سچ بھی یہی ہے کہ جن ملکوں کی معاشی صورت حال اچھی ہے ان کی ذہنی، جسمانی اور روحانی حالت بھی بہتر ہے ، انہیں اہمیت بھی دی جاتی ہے، ان کی بات بھی سنی جاتی ہے، ان کی کہی ہوئی باتوں پر کان بھی دھرے جاتے ہیں اور تو اور اگر وہ کوئی غلط بات بھی کردے تو لوگ اُسے بھی سراہتے ہیں کہ شاید اس میں بھی کوئی ’’منطق‘‘ چھپی ہوگی۔۔۔
اب غریب رشتہ دار (پاکستان) کا حال یہ ہے کہ کبھی بین الاقوامی فورم پر ہماری بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہوتا اور اگر خانہ پری کے لیے کوئی بات سن بھی لے تو خالی سیٹوں سے خطاب کرنا پڑتا ہے جس کا اثر کوئی نہیں لیتا۔۔۔ ہمارے ساتھ اقوام متحدہ میں ایسا ہوا تو ہم نے یہ کہہ سن کر درگزر کردیا کہ کوئی بات نہیں اتنے بڑے فورم پر بڑی قوتوں کا ’’رش‘‘بہت ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن اگر سعودی عرب جیسے ملک میں آپ کہیں نظر بھی نہ آرہے ہوں اور اُن ممالک کو اہمیت دی جارہی ہو جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے تو پھر سوال تو بنتے ہیں ناں۔۔۔ اور پھر جب ان سوالات کے جواب پوچھے جاتے ہیں تو آپ کو غدار کہہ دیا جاتا ہے ۔۔۔ اور کہا جاتا ہے کہ مادر پدر قوتیں ’’را‘‘ کی زبان بول رہی ہیں۔۔۔
خیر امریکی صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں ہی سعودی عرب سے تین کھرب ڈالر سے زیادہ کے تجارتی سودے کیے جن میں اسلحے کا ایک کھرب ڈالر کا سودا بھی شامل ہے۔اس کے بعد دربار سجایا گیا اور دنیا کے 50 ممالک کے سربراہوں کا ریاض میں اکٹھ ہوا۔ ان پچاس ممالک میں سے بیشتر مسلم ممالک تھے۔لیکن پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا اس میں سعودی فرماں رواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں نے انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے ریاض میں ایک عالمی مرکز’’گلوبل سینٹر فار کومبیٹنگ ایکسٹریم ازم‘‘ کی بنیاد ڈالی۔اس عالمی مرکز ’’گلوبل سینٹر فار کومبیٹنگ ایکسٹریم ازم‘‘ کے قیام کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند نظریات جو دہشت گردی کی جانب لے جاتے ہیں اور دہشت گرد جو دنیا کا مشترکہ دشمن ہے اس کے خلاف بین الاقوامی تعاون ممکن بنایا جائے گا۔ رکن ممالک نے انتہا پسندی کے خلاف قائم کیے جانے والے اس سینٹر کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر ریاض کا انتخاب کیا ہے جہاں انتہا پسند نظریات کا تجزیہ کیا جائے گا، اس کی مخالفت کی جائے گی اور اسے روکا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومتوں اور تنظیموں کے تعاون سے اعتدال پسندی کے کلچر کو فروغ دیا جائے گا۔
پاکستانی میڈیا کو جاری کردہ خبر کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اور امریکی صدر ٹرمپ نے اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس کے موقع پر مصافحہ کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے روایتی انداز میں گرمجوشی سے نواز شریف سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی جبکہ نواز شریف نے کہا کہ آپکے پہلے غیر ملکی دورے کیلئے سعودی عرب کا انتخاب قابل تعریف ہے۔۔۔ لیکن میرے ذرائع کے مطابق ایسا کچھ نہیں ہواکوئی ’’گرم جوشی‘‘ جیسی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملی۔۔۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ پاکستانی وزیر اعظم کو تقریر کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم کے مقابلے میں مصر، انڈونیشیا اور کئی دیگر ممالک کوتقریر کا موقع دیا گیا۔ گلوبل سینٹر کے افتتاح پر بھی پاکستان وزیراعظم کو شامل نہیں کیا گیا۔ یہ بات اہم ہے کہ افغان صدر اور بنگلہ دیشی وزیراعظم سعودی حکمرانوں کے ساتھ شیر و شکر رہے لیکن پاکستانی وزیراعظم کہیں نظر نہ آئے۔ پاکستانی وزیراعظم آخری صفوں میں بھی موجود نہیں تھے۔۔۔ خبروں کے مطابق نواز شریف صاحب جہاز میں سفر کے دوران کئی گھنٹے اپنی تقریر کی تیاری کرتے رہے تھے اور اپنے ساتھیوں سے اس کے اہم نکات پر صلاح مشورے میں مصروف رہے تھے۔ سیاسی مخالفت سے قطع نظر ہمیں یہ بات دیکھنی چاہیے کہ یہ ہتک نواز شریف صاحب کی نہیں ہوئی ہے بلکہ وزیراعظم پاکستان کی ہوئی ہے۔
یہ بنیادی طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی انتہاہے اور اس انتہائی درجے کی ذلالت کی بڑی وجہ فورن آفس اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کی عالمی سطح پر پانامہ لیکس کی وجہ سے جو پوزیشن متاثر ہوئی ہے یہ اُس کا بھی شاخسانہ لگتا ہے۔کہ اگر لوگوں کی اخلاقی اہمیت ختم ہو جائے تو اُن کو وہ اہمیت نہیں ملتی جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں ۔۔۔
غیر ملکی سربراہان مملکت میں سب سے زیادہ اہمیت مصری صدر جنرل عبدالفتح السیسی کو دی گئی۔ دوسری طرف بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو خاطر خواہ اہمیت دیا جانا بھی بظاہر پاکستان ہی کے لئے ایک پیغام دکھائی دیتا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بنگلہ دیش عالمی منظر نامے پر وجود ہی نہیں رکھتا ہے جبکہ پاکستان نے اس جنگ میں 70 ہزار سے زیادہ جانیں گنوائی ہیں اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو ایک ہاٹ سپاٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ماضی میں القاعدہ بہت زیادہ سرگرم رہی ہے اور اب داعش افغانستان کے راستے پاکستان میں راستے بنا رہی ہے۔یہ پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اسے اس بری طرح سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ کیا اب وقت نہیں آ گیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی پر مکمل طور پر نظر ثانی کریں اور داخلی طور پر بھی اپنے ملک کے لئے نئے اہداف مقرر کریں۔ برادر مسلم ممالک تو ہمیں کوئی بھی لفٹ کرانے کو تیار نہیں ہیں۔ افغانستان، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی آنکھوں کا تارا تو اب بھارت ہے اور ان ممالک کے لئے پاکستان ایک ناپسندیدہ ملک بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
میرے خیال میں پاکستان کو نظر انداز کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان نے عملی طور پر چین اور ترکی جیسے ممالک کا ساتھ دینا شروع کر دیا ہے کہ جس کی وجہ سے امریکا اور اُس کے اتحادی پاکستان کو ’’لفٹ‘‘ کروانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ جو پاکستان نے یوٹرن کیا ہے کیا پاکستان اس یوٹرن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں ؟ کیا امریکا کے متبادل چین اور ترکی ہو سکتے ہیں؟ اور ویسے بھی ہمارے تینوں ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات کو نسے بہترہیں اور خاص طور پر بھارت تو پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر چھایا ہو ا ہے ۔۔۔ اب چونکہ سعودی عرب بھی امریکا کا پکا اتحادی ہے اس لیے اُس کا ہمیں لفٹ نہ کروانا امریکی دوستی کا محور ہو سکتا ہے ۔۔۔لیکن اب یہ سوال بھی پیدا ہو تاہے کہ جنرل راحیل شریف کو کن وجوہات کی بنا پر 41ملکوں کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔کیا یہ 41ملکوں کی سربراہی کا واحد فائدہ جنرل راحیل شریف کے لیے پاکستان میں مستقبل کے راستے کھول دینے کے لیے ہوگا جس سے پاکستان میں نئی لیڈر شپ ابھر سکتی ہے۔ بہت سے اہم سوال نواز شریف کے اس ناکام دورہ سعودی عربیہ اور ناکام وزارت خارجہ کی قلعی کھولنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نقشے کو بھی بدل رہا ہے۔
پاکستان کو جذباتی قسم کی خارجہ پالیسی سے نکلنا ہو گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ملکوں کے مفادات اہم ہوتے ہیں، جذبات نہیں۔ دنیا ایسے ہی چلتی ہے۔ دنیا میں پاکستان کو اہم مقام دینا ہے تو پھر ہمیں سب سے زیادہ توجہ معیشت کو دینی ہو گی۔ انسانی سرمائے کی ترقی پر توجہ دیتے ہوئے تعلیم پر زیادہ فوکس کرنا ہو گا۔ مزید یہ کہ یونیورسٹیوں کو تنگ نظری یا انتہاپسندی کا گڑھ بنانے سے بچانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے ان کو روشن خیالی اور رواداری کا مرکز بنانا ہو گا۔ سائنس اور معیشت کے میدان میں ترقی کرنے کے لئے شرط یہی ہے کہ سوچ پر سے پہرے اٹھا لئے جائیں۔ اگر ہمارے نوجوان بہتر راہ پر چلیں گے اور معیشت ترقی کرے گی تو پھر ہر شعبے کے لئے زیادہ سرمایہ میسر آئے گا، خواہ وہ صحت ہو، شہری سہولیات ہوں یا دفاعی ضروریات۔
مگر اس کے برعکس افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان میں سیاسی نظام دم توڑ رہا ہے اور پاکستان کی موجودہ سیاسی جماعتیں عوام سمیت عالمی دنیا میں بھی کھو رہی ہیں۔۔۔ لیکن پاکستان اسٹرٹیجکلی اتنا اہم ملک ہے کہ یہاں پر فوج کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس لیے میرے خیال میں لگتا یہ ہے کہ آئندہ معاملات جنرل راحیل شریف کے ذریعے کم سے کم اسلامی بلاک اور امریکا کے ساتھ براہ راست حل کیے جائیں گے ۔۔۔ لہذا پاکستان کے سیاستدانوں کو اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے انہیں عوامی خدمت اور قومی مفادات کو کبھی داؤ پر نہیں لگانا چاہیے ۔۔۔ پانامہ کے معاملے پر اگر میاں نواز شریف استعفیٰ دے کر ملک کا نام بلند کرتے اور اداروں کا مورال بلند کرتے تو یقینی طور پر یہ ایک اچھا پہلو ہوتا۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے پالیسیوں اور ان کی ناکام حکمت عملی کی وجہ سے آج ہم بالکل تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے (آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں