میری نااہلی کرپٹ مافیا سے نجات کی معمولی قیمت ہے.عمران خان

چیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا اور نہ کوئی ٹیکس نوٹس ملا جب کہ میری نااہلی پاکستان کو کرپشن مافیا سے نجات دلانے کی معمولی سی قیمت ہوگی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے معاملے پر سپریم کورٹ تحقیقات کرے یا جے آئی ٹی بنائی جائے، کچھ بھی کرلیں نتیجہ ایک ہی ہوگا۔
عمران خان نے کہا کہ میں نے 1983 سے لندن میں کرکٹ کی حلال اور ٹیکس شدہ آمدن سے فلیٹ خریدا، اس فیلٹ کو 2003 میں فروخت کیا اور فلیٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن قانونی ذرائع سے وطن واپس منتقل کی گئی جب کہ اس حلال اور قانونی ذرائع سے پاکستان لائے گئے سرمائے سے بنی گالہ کی زمین کی ادائیگی کی گئی۔
چیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میں 20 برس تک برطانیہ میں ٹیکس ادا کرتا رہا،1981 سے پاکستان میں ٹیکس ادا کررہا ہوں ، کبھی کوئی غیر قانونی کام کیا نہ ہی کبھی حکومت کی جانب سے مجھے ٹیکس نوٹس دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میری پیشن گوئی ہے کہ میرے برعکس جے آئی ٹی نواز شریف کو بطور وزیر اعظم ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ اور جھوٹ (قطری خط) جیسے جرائم میں ملوث پائے گی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ میں آگ سے کھیل رہا ہوں اور شاید نااہل قرار دے دیا جاؤں گا، وہ سن لیں کہ میری نااہلی پاکستان کو کرپٹ مافیا کے “گاڈ فادر” سے نجات دلانے کی ایک حقیر سی قیمت ہوگی۔
اس سے قبل سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے لئے دائر مقدمہ میں عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ نے اضافی دستاویزات جمع کرادی گئی ہیں جس میں بنی گالہ زمین کی خریداری کی منی ٹریل، آف شور کمپنی نیازی سروسز کو پاکستان میں ظاھر نہ کرنے سے متعلق وجوھات اورعمران خان کی طرف سے جمع کرائے گئے ٹیکس، بنک اکائونٹس اور سٹئٹمنس کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ دستاویزات میں عمران خان کے دوست راشد علی خان کی طرف سے بھجوائے گئے 20 ہزار پونڈز کی تفصیلات ،اضافہ دستاویزات میں بارکلے بنک اکائونٹس کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
عمران خان نے ضمنی جواب جمع میں موقف اپنایا کہ جمائمہ کی جانب سے بھیجی گئی رقم پبلک فنڈز نہیں تھی اور رقم کا لین دین میاں اور بیوی کے درمیان ہوا اس لئے منی لانڈرنگ کا کسی صورت سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب کہ پاکستان سے باہر کوئی رقم منتقل نہیں کی گئی اورلندن فلیٹ کرکٹ کی جائز کمائی سے خریدا گیا۔ جواب میں کہا گیا کہ راشد خان کو تین مارچ 2002 کو 700 پائونڈ جمائمہ نہیں کسی اور ذریعہ سے آئے، مئی اور جون 2003 میں بھیجے گئے ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد ڈالرز عمران خان کو نہیں ملے مذکورہ رقم راشد خان کے پاس ہی رہی، جب کہ آف شور کمپنی نیازی سروسز کے قیام کا عمل اکائونٹنٹ، سو لیسٹر اور علیمہ خان نے مکمل کیا۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ بنی گالہ اراضی کے تمام انتقال جمائمہ کے نام کروائے گئے اور اس اراضی کے انتقالات کی مد میں 22 لاکھ سے زائد ٹیکس ادا کیا گیا جب کہ جمائمہ نے بنی گالہ اراضی کیلئے 4 کروڑ آٹھ لاکھ سے زائد رقم ادا کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں