مشتعل مظاہرین کا میسی ڈونیا کی پارلیمنٹ پر حملہ

یورپی ملک میسی ڈونیا کی پارلیمنٹ پر مشتعل افراد نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں متعدد ارکان شدید زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنوب مشرقی یورپی ملک میسی ڈونیا میں اسپیکر کی تقرری کے معاملے پرمشتعل ہجوم پولیس کا حصار توڑ کر پارلیمنٹ میں داخل ہوگیا جس کے بعد ہجوم نے ارکان پارلیمنٹ پر بدترین تشدد کیا جس کے نتیجے میں کئی ارکان لہو لہان ہوگئے جس میں خواتین بھی شامل ہیں۔

مشتعل ہجوم نے اپوزیشن لیڈر زورن زیو کو گھیرے میں لیتے ہوئے غدار کے نعرے لگائے اور ان پر مکوں کی بارش کردی جس کے نتیجے میں وہ بھی شدید زخمی ہوگئے تاہم اہلکار انہیں عمارت سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔


اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹ نے اسپیکر کی تقرری کے لئے طلعت شیفری کے حق میں ووٹ دیا تھا جس پر سابق حکمراں جماعت ومرو ڈمنی کے ارکان مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اپوزیشن کے اقدام کو غداری قرار دیا جب کہ اپوزیشن لیڈر زورن زیو نے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں زخمی ہونے کے باوجود پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اور اتحادیوں نے اسپیکر کے لئے اتفاق رائے سے طلعت شیفری کا انتخاب کیا ہے اور وہی اگلے اسپیکر ہوں گے۔

میسی ڈونیا میں گزشتہ سال دسمبر میں انتخابات ہوئے تھے جس میں سابق وزیراعظم نیکولا گروسیکی کی جماعت کنزرویٹو پارٹی نے کامیابی حاصل کی تاہم انہیں حکومت بنانے کے لئے مزید ارکان کی ضرورت ہے اور اس سے پہلے اسپیکر کی تقرری کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں