مشال خان قتل کیس, دوست عبداللہ کا بیان ریکارڈ

آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق مقدمے کی تمام تفصیلات منگل کو عدالت میں پیش کی جائیں گی۔
’عبداللہ نے عدالت میں 164 کا بیان دیا ہے، جس صورتحال میں وہ پھنس گیا تھا اور جن واقعات کا اسے سامنا تھا، اس نے ان واقعات کی اپنی حد تک تفصیل بتائی ہے۔‘
آئی جی کے پی کے کا کہنا تھا کہ واقعے کے روز ’ 59 طالب علموں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں ایسے لڑکے بھی تھے جن کے کپڑے خون آلود تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ایف آئی آر میں 20 افراد کو نامزد کیا گیا جن میں سے 16 قاتل گرفتار ہو چکے ہیں۔ ‘
آئی جی کے پی کے کا کہنا تھا کہ مزید تفتیش کے لیے 11 دیگر میں سے چھ ملزمان گرفتار ہوئے ہیں اور گرفتار ہونے والے کل افراد کی تعداد 22 ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا سے بہت سا مواد ملا ہے جس کے حوالے سے ایف آئی اے سے مدد لی گئی ہے۔
آئی جی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ویڈیوز میں موجود پولیس اہلکار ڈی ایس پی تھے اور انھوں نے ایک طالبعلم کی مدد کی اور انھیں بچایا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر متعقلہ انتظامیہ کی جانب سے بروقت پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دی جاتی تو اس قسم کی صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔
دوسری جانب مشال خان کے والد اقبال خان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں