مشال خان قتل کیس رپورٹ عدالت میں پیش

مردان پولیس نےمشال خان قتل کیس کی تفتیش میں پیش رفت کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے۔
مشال خان قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل وقار بلور نے عدالت کو بتایا کہ 57 میں سے 53 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے، قتل میں ملوث ہونے سے متعلق یونیورسٹی انتظامیہ کے کردار کا تعین حتمی تحقیقاتی رپورٹ میں ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ مشال کو گولیاں مارنے والے عمران نے اعتراف جرم کرلیا ہے، کیس کا حتمی چالان 2ہفتوں میں پیش کردیا جائیگا، عبوری چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کردیا ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ عبوری چلان پرفیصلہ دے سکتی ہے؟ انہوں نے ریمارکس دئیے کہ جے آئی ٹی تمام قانونی تقاضے پورے کرے۔

مشال خان کے والد نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کھو لنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ انہوں نے بیٹیوں کے لئے بھی سیکورٹی مانگ لی ۔
مشال خان کے والد کے وکیل اقبال خان کا کہنا ہے کہ مشال کی بہنیں خطرے کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ سکتیں۔ان کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مشال خان قتل کا مقدمہ اسلام آباد منتقل کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ منتقل کرنے کیلئے قانون میں طریقہ کار موجود ہے۔انہوں نے مشال خان کے والد کو مخاطب کرکے کہا کہ ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، آپ کو انصاف فراہم کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرے میں ایسے اقدامات کی گنجائش نہیں۔
کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں