مذہب،تہزیب اور ہمارا معاشرہ!

اس قوم کے روئیوں کو پرکھنے کے لیئے کرکٹ محض ایک جز ہے کل نہیں، سب جانتے ہیں ہزاروں ایسے جز ہیں جن پر یہ قوم اختلافات کا شکار ہے۔ اور نہ صرف اختلافات کا شکار ہے بلکے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں، جن مذہبی روایات کو گلوریفائی کیا جا رہا ہے اس مذہب کے ہی سینکڑوں ٹکڑے ہر روز بکھرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں یہاں، صرف مذہبی حوالے سے ہی یہاں سینکڑوں قومیں رہتی ہیں، جنکے لباس سے لے کر عقائد تک سب کچھہ ایک دوسرے سے مختلف ہے، کونسی ایک قوم کیسی ایک قوم؟ جو ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئیے تیار نہیں، ایک دوسرے کے گھر رشتے کرنے کے لئیے تیار نہیں، ایک دوسرے کا وجود گوارہ کرنے کے لئیے تیار نہیں، یہ سستی قسم کی زبردستی کی یکجہتی سب جانتے ہیں کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔ دو قومی نظریہ ایک سیاسی نعرہ تھا وقت کی ضرورت تھا مقاصد حاصل ہوگئے، یہ الگ بات ہے کہ جو کچھہ ابوالکلام آزاد نے کہا تھا وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا، دو قومی نظریہ تو بنگالیوں کے الگ ہوتے ہی دفن ہو گیا تھا۔ حقائق کو تسلیم کیا جائے اور مانا جائے کے ہم مہذب قوموں کے نام پر دھبے سے زیادہ کچھہ بھی نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں